Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

بیدر میں ووٹر فہرستوں سے متعلق فارم 7 کے معاملات زیر بحث، بڑی تعداد میں درخواستیں واپس لیے جانے پر سوالات


بیدر۔20/اکتوبر۔کرناٹک میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے دوران ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 کے بڑے پیمانے پر استعمال اور بعد ازاں متعدد درخواستوں کی واپسی کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔ بیدر، بیلگاوی اور وجئے پور اضلاع میں سامنے آنے والی اس صورتِ حال نے انتخابی عمل میں شفافیت، درخواستوں کی جانچ اور مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کے طریقہ کار پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ان تین اضلاع میں فارم 7 کی متعدد درخواستیں واپس لیے جانے یا ابتدائی مرحلے میں مسترد کیے جانے کے باعث ان درخواستوں کے پس منظر کی تفصیلی جانچ اور ممکنہ قانونی کارروائی کا معاملہ متاثر ہوا۔ رپورٹ میں انتخابی حکام کے حوالے سے کہا گیا کہ درخواستوں کی واپسی کے نتیجے میں ایسے معاملات کی چھان بین آگے نہیں بڑھ سکی جن میں مبینہ طور پر غلط معلومات یا جھوٹے اعلانات کا استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم، ان الزامات کی حتمی قانونی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔بیدر ضلع کے بھالکی اسمبلی حلقے میں فارم 7 کے استعمال سے متعلق معاملہ خصوصی توجہ کا مرکز بنا۔ نٹّور (بی) کے پولنگ اسٹیشن نمبر 51، 52، 53 اور 54 میں 500 سے زیادہ درخواستیں داخل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ مقامی باشندوں نے الزام لگایا کہ ان درخواستوں میں ایسے ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواست کی گئی جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ مستقل طور پر منتقل ہوچکے ہیں یا اپنے درج شدہ پتے پر موجود نہیں ہیں۔مقامی افراد کا کہنا تھا کہ متعلقہ ووٹر طویل عرصے سے انہی علاقوں میں مقیم ہیں اور ان کے پاس اپنی شناخت اور رہائش کے ثبوت موجود ہیں۔ بعض باشندوں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ درخواستیں ایسے افراد کی جانب سے داخل کی گئیں جن کا متعلقہ گاؤں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان شکایات کے بعد معاملہ انتخابی اور ضلعی حکام تک پہنچا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض مسلم ووٹروں نے الزام لگایا کہ ان کے ناموں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، کسی منظم سیاسی سازش یا کسی مخصوص طبقے کو دانستہ طور پر نشانہ بنائے جانے کا حتمی فیصلہ تفتیش اور متعلقہ شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان الزامات کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔بھالکی میں اس معاملے نے اس وقت مزید اہمیت اختیار کرلی جب ایک شکایت کی بنیاد پر مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں یکم اکتوبر کو ایف آئی آر درج کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ شکایت کنندہ محمد عتیق احمد نے الزام لگایا کہ خصوصی نظرثانی کے دوران فارم 7 کے ذریعے 3,244 ووٹروں کے ناموں کو غلط طور پر منتقل شدہ یا غیر حاضر ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ بعض درخواستیں متعلقہ ووٹروں کی مستند دستاویزات کے بغیر داخل کی گئیں اور نام حذف کرانے کے لیے دستخطوں میں جعل سازی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، اس معاملے میں 32 افراد کے نام ایف آئی آر میں شامل کیے گئے۔ ان الزامات کی صداقت اور متعلقہ افراد کی ذمہ داری کا تعین پولیس تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر وی۔ انبوکمار نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ فارم 7 سے متعلق شکایات کی جانچ انتخابی رجسٹریشن افسران کی سطح پر کی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔فارم 7 کے معاملے میں عدالتی کارروائی بھی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے مبینہ طور پر جعلی فارم 7 داخل کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے دو بوتھ لیول ایجنٹوں کے خلاف درج مقدمات کی مزید تفتیش پر عائد عبوری روک ختم کرنے سے انکار کردیا۔ عدالت نے انتخابی رجسٹریشن افسران کے دفاتر میں موجود متعلقہ الیکٹرانک ریکارڈ اور اصل درخواستوں کو محفوظ رکھنے کی ہدایت بھی دی۔عدالت کے سامنے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ فارم 7 کی قانونی حیثیت اور اس پر کارروائی کا فیصلہ پہلے مجاز انتخابی اتھارٹی کو کرنا چاہیے۔ دوسری جانب، ریاستی حکومت کے وکیل نے مبینہ جعل سازی، غلط شناخت اور جھوٹی معلومات کے استعمال کی تحقیقات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ عدالتی حکم عبوری نوعیت کا ہے اور اسے الزامات کے درست یا غلط ہونے کے حتمی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔فارم 7 انتخابی فہرست میں کسی نام کے اندراج پر اعتراض یا موجودہ فہرست سے نام حذف کرنے کی درخواست کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کسی درخواست کا داخل کیا جانا بذاتِ خود ووٹر کا نام حذف ہوجانے کے مترادف نہیں ہے۔ متعلقہ انتخابی افسر کو درخواست کی جانچ، ضروری تصدیق اور مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ہوتا ہے۔اس تناظر میں ضروری ہے کہ اگر کسی ووٹر کو اپنے نام کے خلاف اعتراض یا نوٹس موصول ہو تو وہ مقررہ مدت میں متعلقہ انتخابی رجسٹریشن افسر سے رجوع کرے، اپنی شناخت اور رہائش کے دستاویزات پیش کرے اور سماعت کے عمل میں حصہ لے۔ انتخابی حکام کو بھی چاہیے کہ شکایات کی غیر جانب دارانہ جانچ کریں اور کسی اہل ووٹر کا نام بلاجواز حذف ہونے سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔بیدر ضلع، خصوصاً بھالکی اسمبلی حلقے میں فارم 7 سے متعلق شکایات نے انتخابی فہرستوں کی درستگی اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ اگر کسی درخواست میں غلط معلومات، جعلی دستخط یا کسی دوسرے شخص کی شناخت کے مبینہ غلط استعمال کے شواہد سامنے آتے ہیں تو ان کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔ اسی طرح، کسی فرد یا سیاسی جماعت کے خلاف محض الزام کی بنیاد پر جرم ثابت شدہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔موجودہ صورتِ حال میں انتخابی حکام کے لیے ضروری ہے کہ موصولہ درخواستوں، واپس لیے گئے اعتراضات اور ان پر کی گئی کارروائی کی تفصیلات قواعد کے مطابق واضح رکھیں۔ شکایت کنندگان کو بھی مناسب قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کا موقع ملنا چاہیے، تاکہ کسی اہل ووٹر کا نام بلاجواز حذف نہ ہو اور انتخابی عمل کی شفافیت پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔