Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

کرناٹک کے جنگل میں ہرن کے مبینہ شکار کا معاملہ، حیدرآباد کے تین افراد گرفتار؛ لائسنس یافتہ رائفل، کارتوس اور اسکارپیو ضبط

حیدرآباد: کرناٹک کے ضلع کلبرگی کے چنچولی تعلقہ میں واقع جنگل میں مبینہ طور پر ہرن کا شکار کرنے کے الزام میں حیدرآباد کے ملک پیٹ علاقے کے تین افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق، ملزمین نے شکار کے لیے لائسنس یافتہ اسپورٹنگ رائفل کا مبینہ طور پر غیر مجاز استعمال کیا، جو اسلحہ لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔گرفتار شدگان کی شناخت 47 سالہ سید حسین، جو اسٹیل فیکٹری میں ملازم ہے، 49 سالہ سید عمر، جو اسٹیل کا کاروبار کرتا ہے، اور 40 سالہ محمد حمید، جو تاجر ہے، کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ تینوں حیدرآباد کے ملک پیٹ علاقے میں واقع تیگَل گوڑہ کے رہنے والے ہیں۔پولیس کے مطابق، ہرن کے مبینہ شکار کا واقعہ کرناٹک کے ضلع کلبرگی کے چنچولی تعلقہ میں واقع چمن چود گاؤں کے قریب جنگلاتی علاقے میں پیش آیا۔ اس معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ملک پیٹ میں ریس کورس کے قریب گاڑیوں کی تلاشی کے دوران پولیس نے ایک مہندرا اسکارپیو کو روک کر اس کی تلاشی لی۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ گاڑی میں سوار افراد مبینہ طور پر ہرن کا شکار کرکے حیدرآباد واپس آرہے ہیں۔گاڑی کی تلاشی کے دوران پولیس نے نائٹ وژن دوربین سے لیس ایک .30-06 اسپورٹنگ رائفل برآمد کی۔ اس کے علاوہ آٹھ زندہ کارتوس اور استعمال شدہ 12 خول بھی ضبط کیے گئے۔ ذرائع ابلاغ میں تفتیش کے حوالے سے شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق، پولیس نے دو نائٹ وژن دوربینیں، چار موبائل فون، ایک خراب شدہ ہواوے فولڈیبل فون، ایک ریچارج ایبل بیٹری اور اسکارپیو گاڑی بھی اپنی تحویل میں لے لی۔پولیس کا الزام ہے کہ محمد حمید نے شکار کے دوران اپنے موبائل فون پر ویڈیوز ریکارڈ کی تھیں۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ بعد میں اس نے شواہد کو ضائع کرنے کی غرض سے موبائل فون کو نقصان پہنچایا۔ تاہم، اس سلسلے میں سامنے آنے والے الزامات کی تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔پولیس نے اس معاملے میں آرمز ایکٹ، وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ 1972 اور بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، تینوں ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔پولیس اب مبینہ شکار، لائسنس یافتہ اسلحے کے استعمال، اسلحہ لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی اور الیکٹرانک شواہد کو مبینہ طور پر تلف کرنے کے معاملے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کررہی ہے۔ عدالتی کارروائی اور پولیس تفتیش مکمل ہونے تک ملزمین کے خلاف عائد الزامات کو ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بہ شکریہ حیدرآباد میل