Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

کرناٹک میں ڈاکٹروں کی من مانی پر لگام! یکم نومبر سے رات 9 بجے کے بعد ایپ پر حاضری لازمی

بنگلورو: کرناٹک حکومت نے سرکاری طبی خدمات میں جواب دہی یقینی بنانے اور ڈاکٹروں کی اپنے مقررہ جائے تعیناتی پر موجودگی کو لازمی بنانے کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔ یکم نومبر سے ریاست کے تعلقہ اسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت (پی ایچ سی) میں تعینات ڈاکٹروں کو رات 9 بجے کے بعد سرکاری ایپ کے ذریعے اپنی حاضری درج کرنی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ڈاکٹر اپنے مقررہ مقام پر موجود رہیں اور عوام کو علاج معالجے کی سہولت بروقت دستیاب ہو۔حکومت کے حکم نامے کے مطابق، حاضری درج کرنے کے لیے جغرافیائی حدود سے منسلک ’کرتویہ‘ (Kartavya) ایپ استعمال کی جائے گی، جس کے ذریعے مخصوص جغرافیائی حدود کے اندر ہی حاضری درج کی جاسکتی ہے۔ اس نظام کو سرکاری محکموں اور اداروں میں کام کرنے والے کنٹریکٹ اور آؤٹ سورس ملازمین تک بھی توسیع دے دی گئی ہے۔حکم نامے کے تحت متعلقہ ملازمین کو 25 نومبر تک ایپ پر اپنا اندراج مکمل کرنا ہوگا، جبکہ یکم دسمبر سے حاضری صرف اسی ایپ کے ذریعے درج کی جائے گی۔ مزید برآں، یکم جنوری 2027 سے ملازمین کی تنخواہوں اور آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کو کی جانے والی ادائیگیوں کو ایپ سے تیار ہونے والی حاضری رپورٹوں سے منسلک کردیا جائے گا۔پرنسپل سکریٹری، محکمہ پراجا سیوا نے وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بعد یہ حکم جاری کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرکاری ملازمین کی جواب دہی میں اضافہ ہوگا اور اس بات کو یقینی بنایا جاسکے گا کہ ملازمین اپنی مقررہ جائے تعیناتی پر رہتے ہوئے عوامی خدمات انجام دیں۔ سرکاری ملازمین کا اپنے مقررہ صدر مقام سے دور رہ کر فرائض انجام دینا اور وقت پر ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونا عوام کے لیے مشکلات کا سبب بنتا رہا ہے۔تاہم، منظور شدہ رخصت پر رہنے والے ملازمین کو حاضری کی اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ اسی طرح مجاز افسر کی منظوری سے سرکاری کام کے سلسلے میں صدر مقام سے باہر تعینات ملازمین اور اپنے جائے تعیناتی سے باہر جانے کی پیشگی اجازت حاصل کرنے والے اہلکاروں کو بھی رعایت دی جائے گی۔ ان تمام استثنائی صورتوں کی وجوہات ایپ میں درج کرنا لازمی ہوگا۔حکم نامے کے مطابق، متعلقہ کمشنر اور ضلعی صحت افسران ہر ماہ رات کے وقت درج کی جانے والی حاضری کی رپورٹوں کا جائزہ لیں گے۔ اگر کوئی ملازم اجازت کے بغیر اپنے مقررہ صدر مقام سے غیر حاضر پایا گیا تو اس کے خلاف متعلقہ سروس قواعد کے تحت تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے۔اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، حکومت کا یہ فیصلہ اُپ لوک آیکت کی جانب سے کی گئی ایک انکوائری کے بعد سامنے آیا ہے۔ انکوائری میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی تھی کہ متعدد سرکاری ملازمین اپنی مقررہ جائے تعیناتی پر قیام نہیں کرتے اور دور دراز مقامات سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس طرزِ عمل کے باعث ڈیوٹی پر بروقت حاضری میں تاخیر ہوتی تھی اور عام شہریوں کو سرکاری خدمات کے حصول میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔حکومت نے نئے نظام کے ذریعے سرکاری ملازمین کی حاضری کی نگرانی مؤثر بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اب اس فیصلے پر عمل درآمد سے یہ واضح ہوگا کہ رات کے اوقات میں سرکاری طبی مراکز پر ڈاکٹروں کی موجودگی کس حد تک یقینی بنائی جاسکتی ہے اور مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے میں یہ اقدام کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔