بنگلور۔ کرناٹک قانون ساز کونسل کی چار نشستوں کے لیے 23 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کی مہم ختم ہونے کے ساتھ ہی اب تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ بی جے پی اور جے ڈی ایس کا اتحاد ایک دوسرے کو ووٹ منتقل کرانے میں کتنا کامیاب رہتا ہے، اور اندرونی سیاسی کشیدگی کے باوجود کانگریس کس حد تک منظم انداز میں اس چیلنج کا مقابلہ کرتی ہے۔قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے پاس فی الوقت ان چار میں سے تین نشستیں ہیں اور اس کی کوشش ہے کہ وہ اپنی موجودہ قوت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ بنگلورو ٹیچرز حلقہ بھی کانگریس سے چھین لے۔ دوسری جانب، برسرِ اقتدار کانگریس کو امید ہے کہ امیدواروں کے پہلے سے اعلان اور نچلی سطح پر کی گئی محنت کی بدولت وہ اپنی واحد نشست کا دفاع کرنے اور دیگر حلقوں میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان نتائج کو ریاستی حکومت یا اتحاد کے خلاف کوئی بڑا فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ گریجویٹس اور ٹیچرز حلقوں کے انتخابات پر امیدواروں کے ذاتی اثر و رسوخ اور انتخابی فہرست میں ووٹرز کو درج کرانے کی کوششوں کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔مورخہ 23 اکتوبر کو جنوبی شرقی گریجویٹس، مغربی گریجویٹس، شمالی شرقی ٹیچرز اور بنگلورو ٹیچرز حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ این ڈی اے کے تحت بی جے پی پہلے تین حلقوں میں جبکہ اس کی اتحادی جے ڈی ایس بنگلورو ٹیچرز کی نشست پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ جنوبی شرقی گریجویٹس حلقے میں بی جے پی کے کے ایم سریش کا مقابلہ کانگریس کے ششی ہولی کنٹے مٹھ سے ہے، جبکہ مغربی گریجویٹس حلقے میں بی جے پی کے موجودہ ایم ایل سی ایس وی سنکنور ہیٹ ٹرک بنانے کے لیے کانگریس کے موہن لمبیکائی کے خلاف میدان میں ہیں۔ شمالی شرقی ٹیچرز حلقے میں بی جے پی کے ششیل جی ناموشی کا مقابلہ کانگریس کے شرنپّا ماتھور سے ہے، جہاں دونوں اساتذہ کو اپنے حق میں متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔خاص طور پر بنگلورو ٹیچرز حلقہ این ڈی اے کے لیے اہم امتحان ثابت ہو سکتا ہے جہاں جے ڈی ایس کے اے پی رنگناتھ کا مقابلہ کانگریس کے موجودہ ایم ایل سی پتّنّا سے ہے۔ دونوں امیدوار ووکالیگا برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور اس حلقے کے نتائج سے یہ واضح ہوگا کہ کیا بی جے پی کے ووٹرز جے ڈی ایس امیدوار کی حمایت میں ووٹ دیتے ہیں یا نہیں۔بی جے پی کی جانب سے ریاستی صدر بی وائی وجےیندر ااور مرکزی وزیر مملکت برائے ریلوے وی سومنّا سمیت سینئر رہنماؤں نے انتخابی مہم کی قیادت کی، جبکہ کانگریس کی جانب سے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، کے پی سی سی صدر بی کے ہری پرساد اور نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور سمیت دیگر جرید رہنماؤں نے اپنے امیدواروں کی حمایت میں مہم چلائی ہے۔ نتائج کے بعد دونوں فریقین اپنے اپنے حق میں سیاسی بیانیے قائم کرنے کی کوشش کریں گے، تاہم اسے 2028 کے اسمبلی انتخابات کے لیے حتمی عوامی رجحان نہیں سمجھا جا سکتا۔
