بیدر۔ 23 / اکتوبر۔ ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کی منسوخی، ووٹروں کے حقوق کے تحفظ اور جمہوری اقدار کی بحالی کے مطالبے پر جمعہ کے روز بیدر میں مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور ترنگا ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی برطرفی، ان کے خلاف قانونی کارروائی اور مرکزی حکومت کے کردار کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا عمل شفاف، غیر جانب دار اور ہر شہری کے حقِ رائے دہی کا محافظ ہونا چاہیے۔ایس آئی آر مخالف تنظیموں سے وابستہ کارکن دوپہر تین بجے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سرکل پر جمع ہوئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے اور ایس آئی آر کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹروں کے آئینی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔ بعد ازاں امبیڈکر سرکل سے تحصیل آفس روڈ تک ترنگا ریلی نکالی گئی، جس میں مختلف تنظیموں کے نمائندوں، سماجی کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی۔احتجاج کے دوران مقررین نے الزام عائد کیا کہ مرکزی الیکشن کمیشن کا موجودہ طریقۂ کار ووٹروں کے حقوق کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے دوران مستحق شہریوں کے نام حذف ہوتے ہیں یا انہیں اپنے نام برقرار رکھنے کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس سے انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے ہر معاملے کی منصفانہ جانچ کی جائے اور جن شہریوں کے نام غلطی سے خارج کیے گئے ہیں، انہیں قانونی طریقۂ کار کے مطابق دوبارہ شامل کیا جائے۔احتجاج میں مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ مقررین نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے موجودہ قانونی طریقۂ کار میں مرکزی حکومت کے اثرورسوخ کی گنجائش بڑھ گئی ہے، جس سے انتخابی ادارے کی خودمختاری اور غیر جانب داری کے بارے میں خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری، شرائطِ ملازمت اور مدتِ کار) ایکٹ 2023 میں کی گئی تبدیلیوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔اس قانون کی دفعہ 7 کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کی تقرری کے لیے سفارش کرنے والی کمیٹی میں وزیراعظم، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیراعظم کی جانب سے نامزد کردہ مرکزی کابینہ کے ایک وزیر شامل ہوتے ہیں۔ اس طرح کمیٹی میں مرکزی حکومت کے دو نمائندے ہوتے ہیں، جبکہ قائدِ حزبِ اختلاف تیسرا رکن ہوتا ہے۔ یہ قانونی انتظام سرکاری گزٹ میں درج ہے۔ مظاہرین کے نزدیک یہی طریقۂ کار انتخابی کمیشن کی آزادی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔ تاہم، اس قانونی ساخت کو مرکزی حکومت اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان کسی غیر قانونی سازباز کا قطعی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا؛ اس الزام کی تصدیق کے لیے مخصوص دستاویزی شواہد اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی کے معاملے میں بھی احتجاجیوں نے شفافیت پر زور دیا۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایس آئی آر کے عمل کے لیے انتخابی قوانین اور آئین کے آرٹیکل 324 کا حوالہ دیا ہے۔ دوسری جانب، ووٹروں کے ناموں کے اخراج، دستاویزات کی جانچ اور شہریوں کو فراہم کیے جانے والے مواقع کے بارے میں اٹھنے والے سوالات نے اس عمل کی نگرانی اور جواب دہی کو اہم بنا دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے سرکاری ووٹر سروس پورٹل پر ایس آئی آر سے متعلق سہولتیں اور ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 بھی دستیاب ہے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ایس آئی آر کے دوران حذف کیے گئے ناموں کی تفصیلی جانچ کی جائے، متاثرہ ووٹروں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دیا جائے اور غلطیوں کی اصلاح کے لیے مؤثر طریقۂ کار وضع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا مقصد اہل شہریوں کو انتخابی فہرست میں شامل رکھنا ہونا چاہیے، نہ کہ انتظامی خامیوں یا غیر شفاف کارروائیوں کے باعث ان کے حقِ رائے دہی کو خطرے میں ڈالنا۔احتجاجیوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے برطرف کرنے، ان کے خلاف قانونی کارروائی، ایس آئی آر کی مکمل منسوخی اور الیکشن کمشنرز ایکٹ 2023 میں کی گئی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایک غیر جانب دارانہ طریقۂ کار کے ذریعے الیکشن کمیشن کی تشکیل، ووٹر لسٹ کی منصفانہ نظرثانی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے پر بھی زور دیا۔مظاہرین نے ’’ہر ہاتھ میں ترنگا، ہر گلی میں جنتر منتر‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین، جمہوری اقدار اور حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے متحد ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔احتجاج میں محمد نظام الدین، بابوراؤ ہُنّا، ماروتی بودھے، اوم پرکاش روٹے، وٹھل داس پیاگے، ڈاکٹر مقصود چندا، ڈاکٹر دیوی داس تمکنٹے، ریشما ہمسراج، محمد آصف الدین، محمد شفایت علی، گروناتھ گڈے، نذیر صاحب، ڈاکٹر شاہ ضیاء الاسلام کنجِ نشین، محمد یوسف، مبشر سندھے، ارون پٹیل، سید منصور احمد قادری انجینئر اور سنتوش کمار جولدابکے سمیت مختلف تنظیموں کے نمائندوں اور کارکنوں نے شرکت کی۔مظاہرین نے اپنے احتجاج کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ جمہوریت میں ووٹ کا حق محض انتخابی عمل کا ایک حصہ نہیں، بلکہ شہریوں کی سیاسی شرکت اور آئینی مساوات کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق، انتخابی اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی سمیت ہر انتخابی کارروائی شفاف ہو، فیصلوں کی وجوہات عوام کے سامنے رکھی جائیں اور کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کا تحفظ ہی جمہوریت کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
