Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

سعودی عرب میں کرناٹک کے 600 سے زائد عمرہ زائرین پھنس گئے، وزیر اعلی ڈی کے شیوکمار نے مرکزی وزیر خارجہ سے مدد طلب کرلی

بنگلورو، 24 اکتوبر: کرناٹک سے تعلق رکھنے والے 600 سے زائد عمرہ زائرین سعودی عرب میں پروازوں کی منسوخی اور فضائی آپریشن میں خلل کے باعث وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ ان زائرین میں بزرگوں، خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بعض متاثرہ خاندانوں کو رہائش، کھانے پینے، ادویات اور متبادل ٹکٹوں کے اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ صورتِ حال کے پیش نظر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو خط لکھ کر فوری مداخلت، خصوصی پروازوں کے انتظام اور زائرین کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کی درخواست کی ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور فضائی آپریشن میں خلل کے باعث عمرہ زائرین کی واپسی کا سفر متاثر ہوا ہے۔ متعدد مسافروں کی واپسی کی پروازیں منسوخ ہونے کے بعد انہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کرنا پڑ رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں سعودی عرب کے دیگر شہروں میں موجود مسافروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ انڈیگو نے 23 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ ریاض آنے اور جانے والی پروازوں کی منسوخی 31 اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے، جبکہ جدہ، دمام اور مدینہ منورہ کے لیے پروازیں 27 اکتوبر تک معطل رہیں گی۔ تاہم، مختلف ایئر لائنز کے اوقات اور پابندیاں الگ ہو سکتی ہیں، اس لیے ہر مسافر کے لیے متعلقہ پرواز کی تازہ صورتِ حال معلوم کرنا ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے مرکزی وزیر خارجہ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ متاثرہ زائرین کی واپسی کے لیے مرکزی حکومت، ہندوستانی سفارتی مشنوں اور ایئر لائنز کے درمیان فوری رابطہ قائم کیا جائے۔ انہوں نے ضرورت پڑنے پر خصوصی پروازوں کا انتظام کرنے اور وطن واپسی تک زائرین کو رہائش، خوراک اور دیگر ضروری سہولتیں فراہم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کرناٹک اسٹیٹ حج کمیٹی کے چیئرمین اور متعلقہ حکام نے متاثرہ افراد کی صورتِ حال کا جائزہ لیا ہے۔ریاستی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود یو ٹی قادر نے بھی اس معاملے میں حکام سے رابطے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، بعض زائرین نے نجی ٹور آپریٹروں کے ذریعے عمرہ کے سفری پیکیج حاصل کیے تھے۔ واپسی کی پروازیں منسوخ ہونے کے بعد انہیں متبادل ٹکٹوں کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مسافروں کے لیے نئے ٹکٹ خریدنا اضافی مالی بوجھ بن گیا ہے، جبکہ محدود وسائل رکھنے والے خاندانوں کو قیام اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
نائب وزیر اعلیٰ جی پرمیشور نے بھی کہا ہے کہ ریاستی حکومت ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے اور جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے سے رابطے میں ہے۔ حکومت ایئر لائنز اور ٹور آپریٹروں کے ساتھ مل کر متاثرہ زائرین کی واپسی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم، تمام متاثرہ افراد کی واپسی کے لیے کوئی حتمی تاریخ یا خصوصی پروازوں کا مکمل شیڈول تاحال مصدقہ طور پر سامنے نہیں آیا ہے۔کرناٹک کے کن اضلاع سے کتنے عمرہ زائرین سعودی عرب میں پھنسے ہوئے ہیں، اس بارے میں بھی مکمل سرکاری فہرست دستیاب نہیں ہے۔ مختلف اخباری اطلاعات میں بنگلورو، بیلگاوی، ہبلی و دھارواڑ اور ساحلی کرناٹک کے بعض علاقوں سے تعلق رکھنے والے زائرین کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن ضلع وار تعداد کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے کسی ضلع کے نام کے ساتھ مخصوص تعداد درج کرنا درست نہیں ہوگا۔ ریاستی حکومت، حج کمیٹی اور متعلقہ ٹور آپریٹروں سے ضلع وار اعداد و شمار جاری کرنے کا مطالبہ کیا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مستند معلومات حاصل ہو سکیں۔متاثرہ زائرین اور ان کے اہلِ خانہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ایئر لائن، ٹور آپریٹر اور متعلقہ ہندوستانی سفارتی مشن سے رابطے میں رہیں اور کسی غیر مصدقہ اطلاع پر اضافی رقم ادا کرنے سے گریز کریں۔ ہندوستانی سفارت خانے اور قونصل خانے سے رابطہ کرتے وقت مسافر کا نام، پاسپورٹ کی تفصیلات، موجودہ مقام، ٹور آپریٹر اور منسوخ شدہ پرواز کی معلومات فراہم کرنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔عمرہ زائرین کی وطن واپسی کا معاملہ اب محض سفری انتظامات تک محدود نہیں رہا، بلکہ ان کی سلامتی، مالی مشکلات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ، سفارتی سطح پر فوری کارروائی اور متاثرہ افراد کے لیے واضح معلومات کی فراہمی ضروری ہے۔ زائرین کے اہلِ خانہ کو بھی سرکاری ذرائع سے تازہ اطلاعات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ غیر یقینی صورتِ حال اور پریشانی کو کم کیا جا سکے۔ماخذ: 23 اور 24 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اخباری اطلاعات اور ریاستی حکومت سے متعلق رپورٹس۔ ضلع وار تعداد اور تمام زائرین کی واپسی کی تاریخ کی سرکاری تصدیق دستیاب نہیں ہے۔