Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

کرناٹک کی حتمی ووٹر فہرست سے 99.32 لاکھ نام خارج، ووٹروں کی تعداد گھٹ کر 4.55 کروڑ رہ گئی!

بنگلور۔ کرناٹک میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے بعد 27 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی حتمی انتخابی فہرست میں ریاست کے تقریباً 99.32 لاکھ ووٹروں کے نام سابقہ فہرست کے مقابلے میں کم ہوگئے ہیں۔ اس نظرثانی کے نتیجے میں ریاست میں درج شدہ ووٹروں کی تعداد 5.54 کروڑ سے گھٹ کر تقریباً 4.55 کروڑ رہ گئی ہے۔ انتخابی فہرست میں اس نمایاں کمی نے ووٹر اندراج، ناموں کے اخراج اور اہل شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات کو پھر سے موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ ریاست میں نظرثانی کا عمل 30 جون 2026 کو شروع ہوا تھا۔ اس دوران بوتھ سطح کے افسران (BLOs) نے گھر گھر جاکر ووٹروں کی تفصیلات کی تصدیق کی۔ انتخابی حکام نے ابتدائی مرحلے میں ایک کروڑ سے زائد ووٹروں کو غیر حاضر، مستقل طور پر منتقل شدہ، فوت شدہ، دوہرے اندراج یا دیگر زمروں میں درج کیا تھا۔ 16 جون 2026 تک ریاست کی انتخابی فہرست میں مجموعی طور پر 5,54,32,314 ووٹر درج تھے۔حتمی فہرست کے مطابق، تقریباً 2.29 کروڑ خواتین اور 2.25 کروڑ مرد ووٹر شامل ہیں۔ اس طرح ریاست میں خواتین ووٹروں کی تعداد مرد ووٹروں سے زیادہ ہے۔ تاہم، حتمی اعداد و شمار کی گول کی گئی تعداد کے باعث ان کا مجموعہ 4.55 کروڑ سے معمولی مختلف ہوسکتا ہے۔اس خصوصی نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے ناموں کے اخراج کا معاملہ بھی زیرِ بحث رہا۔ انتخابی حکام نے ووٹر اندراج کے فارموں میں منطقی تضادات اور سابقہ انتخابی ریکارڈ سے مطابقت نہ ہونے کے معاملات پر 43,82,824 نوٹس جاری کیے تھے۔ ان میں 20,35,835 نوٹس تضادات اور 23,45,500 نوٹس سابقہ ریکارڈ سے مطابقت نہ ہونے کے زمرے میں جاری کیے گئے۔ حکام کے مطابق نوٹسوں پر سماعت اور کارروائی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔ووٹر فہرست میں نام شامل کرانے کے لیے فارم 6 کی درخواستیں بھی موصول ہوئیں، جبکہ فارم 7 کے ذریعے ناموں کے اندراج یا اخراج پر اعتراضات درج کیے گئے۔ چیف الیکٹورل آفیسر وی انبوکمار کے مطابق، فارم 7 کی درخواستوں کی بنیاد پر کسی ووٹر کا نام حذف نہیں کیا گیا۔ انتخابی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ ووٹر فہرست میں نئے ناموں کا اندراج، تفصیلات کی تصحیح اور متعلقہ تبدیلیوں کا عمل جاری رہتا ہے۔حتمی انتخابی فہرست کے اجرا کے بعد ووٹروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ناموں کی موجودگی کی تصدیق کریں۔ جن اہل شہریوں کے نام فہرست میں شامل نہیں ہیں، وہ متعلقہ انتخابی حکام سے رجوع کرکے فارم 6 اور مطلوبہ دستاویزات کے ذریعے اندراج کی درخواست دے سکتے ہیں۔ انتخابی فہرست میں نام کا اخراج کسی اہل شہری کے حقِ رائے دہی سے محرومی کا سبب نہیں بننا چاہیے؛ اسی لیے نظرثانی کے عمل میں شفافیت، درست اعداد و شمار اور شکایات کے منصفانہ ازالے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔