Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

خوردنی تیل کے معاملے میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے بیدر کے کسان تلہن کی کاشت کو فروغ دیں: ڈپٹی کمشنر شلپا شرما

بیدر۔ 27 اکتوبر۔ بیدر ضلع کی ڈپٹی کمشنر شلپا شرما نے کسانوں پر زور دیا ہے کہ وہ تلہن کی فصلوں کی کاشت کو ترجیح دیتے ہوئے خوردنی تیل کی پیداوار میں خودکفالت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں تلہن کی کاشت کا رقبہ بڑھا کر نہ صرف مقامی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں، بلکہ دیگر اضلاع اور ریاستوں کو بھی تلہن فراہم کیا جاسکتا ہے۔وہ حال ہی میں بیدر کے پوجیہ چن بسوا پٹّا دیورو رنگ مندر میں ضلعی انتظامیہ، ضلع پنچایت اور محکمۂ زراعت بیدر کے مشترکہ زیرِ اہتمام منعقدہ قومی خوردنی تیل مشن (تلہن) کے ضلعی سطح کے ورکشاپ اور زرعی و متعلقہ محکموں کی نمائش کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کررہی تھیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ قومی خوردنی تیل مشن کے تحت محکمۂ زراعت کی جانب سے کسانوں کو زعفران (کُسُم)، مونگ پھلی اور سورج مکھی جیسی تلہن کی فصلوں کی کاشت زیادہ رقبے پر کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ دستیاب زرعی وسائل اور جدید طریقۂ کاشت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیداوار میں اضافہ کریں، تاکہ بیدر ضلع تلہن کی پیداوار میں نمایاں مقام حاصل کرسکے۔اوراد (بی) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت مارتانڈ نے ’’تلہن کی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا کردار‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے زرعی پیداوار بڑھانے میں سائنسی طریقوں کی اہمیت واضح کی۔بیدر کی جوائنٹ ڈائریکٹر محکمہ اگریکلچر دیویکا آر نے قومی خوردنی تیل مشن کے مقاصد اور افادیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو تلہن کی کاشت کی جانب راغب ہوکر زیادہ رقبے پر فصلیں اگانی چاہئیں اور فی ہیکٹر پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے جدید زرعی تکنیک اختیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے صاف اور معیاری خوردنی تیل کے استعمال کی اہمیت بھی بیان کی۔دیویکا آر نے بتایا کہ تلہن کی کاشت اور اس سے متعلق سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت تلہن کی فصلوں کی کٹائی کے بعد کی سرگرمیوں سے متعلق یونٹوں کے لیے ضروری مشینری خریدنے پر کسانوں، غیر سرکاری تنظیموں، کسان پروڈیوسر تنظیموں (FPOs) اور خود امدادی گروپوں کو منصوبے کی لاگت کا 33 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 9.90 لاکھ روپے تک سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو افسر گیتّے مادھو وٹھل راؤ نے خطاب کرتے ہوئے محکمۂ اگریکلچر اور دیگر محکموں کی مختلف فلاحی اسکیموں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ ان اسکیموں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنی زرعی سرگرمیوں کو ترقی دیں۔زرعی تحقیقاتی مرکز کی سربراہ اور سائنس داں ڈاکٹر بھوانی نے انسانی صحت میں خوردنی تیل کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ سائنس داں ڈاکٹر آر ایل جادھو نے تلہن کی فصلوں کی جدید کاشت کے طریقوں، ڈاکٹر سنیل ایم این نے ان فصلوں میں کیڑوں اور بیماریوں کے تدارک، جبکہ ڈاکٹر گیان دیو بُلّا نے تلہن کی بیج پیداوار کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں۔جنواڑہ کے کرشی وگیان کیندر کے سربراہ ڈاکٹر راج شیکھر بس نائک نے قدرتی زراعت اور تلہن کی کاشت کے رقبے میں توسیع کے امکانات پر اظہارِ خیال کیا۔ جوائنٹ ڈائریکٹر باغبانی نے پام آئل مشن اور شہد کی مکھیوں کی پرورش کے شعبوں میں محکمۂ باغبانی کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں اور مراعات کے بارے میں بتایا۔ورکشاپ میں ضلع کے تمام تعلقہ جات سے تعلق رکھنے والے کسانوں، محکمۂ زراعت و باغبانی کے افسران، کسان پروڈیوسر تنظیموں کے نمائندوں اور متعلقہ اداروں و تنظیموں نے شرکت کی۔ آخر میں بیدر کے ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ اگریکلچر انصاری ایم اے کے نے اظہارِ تشکر کیا، جس کے ساتھ ورکشاپ اختتام پذیر ہوا۔