بنگلورو۔ کرناٹک قانون ساز کونسل کے دو گریجویٹ اور دو اساتذہ حلقوں کے انتخابی نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور جنتا دل (سیکولر) یعنی جے ڈی (ایس) اتحاد نے چاروں نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے حکمراں کانگریس کو بڑا سیاسی جھٹکا دیا ہے۔ ان انتخابات میں کانگریس کسی بھی حلقے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔ چاروں نشستوں پر اپوزیشن اتحاد کی کامیابی کو ریاست میں سیاسی قوت کے مظاہرے اور حکمراں جماعت کے لیے ایک اہم انتخابی چیلنج کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
ان انتخابات میں بنگلورو اساتذہ حلقے سے جے ڈی (ایس) کے امیدوار اے پی رنگاناتھ نے کانگریس کے پانچ مرتبہ کے رکن قانون ساز کونسل اور سابق ڈپٹی چیئرمین پٹّنا کو 908 ووٹوں سے شکست دی۔ رنگاناتھ کو 10,810 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ پٹّنا 9,902 ووٹ حاصل کرسکے۔ اس کامیابی کے ساتھ جے ڈی (ایس) نے کانگریس سے یہ نشست چھین لی۔
شمال مشرقی اساتذہ حلقے میں بی جے پی کے موجودہ رکن ششیل جی نموشی نے کانگریس امیدوار شرناپا متور کو 3,297 ووٹوں سے شکست دی۔ نموشی نے 15,596 ووٹ حاصل کیے، جبکہ متور کو 12,299 ووٹ ملے۔ اس کامیابی کے ساتھ نموشی نے اس حلقے سے اپنی پانچویں کامیابی درج کرائی۔ یہ حلقہ کلبرگی سمیت کلیان کرناٹک کے مختلف اضلاع پر مشتمل ہے۔
مغربی گریجویٹ حلقے میں بی جے پی کے ایس وی سنکنور نے 33,711 ووٹ حاصل کرکے کانگریس امیدوار موہن لمبیکائی کو شکست دی، جنہیں 24,388 ووٹ ملے۔ سنکنور نے 9,323 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ جنوب مشرقی گریجویٹ حلقے میں بی جے پی کے کے ایم سریش نے 66,020 ووٹ حاصل کیے، جبکہ کانگریس امیدوار ششی ہولیکونٹے مت کو 42,922 ووٹ ملے۔ اس حلقے میں کامیابی کا فرق 23,098 ووٹ رہا۔
چاروں نشستوں پر کامیابی کے بعد بی جے پی۔ جے ڈی (ایس) اتحاد کو قانون ساز کونسل میں اپنی سیاسی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کا موقع ملا ہے۔ انتخابی نتائج میں بنگلورو اساتذہ حلقے کی نشست کانگریس سے چھن جانا خاص طور پر اہم سمجھا جارہا ہے، کیونکہ پٹّنا اس حلقے میں طویل عرصے سے اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ دوسری جانب بی جے پی نے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے اساتذہ اور گریجویٹ ووٹروں کے درمیان اپنی گرفت برقرار رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔
ان انتخابات میں کانگریس کی ناکامی نے ریاست کی حکمراں جماعت کی انتخابی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں کے ووٹر عام انتخابی حلقوں کے ووٹروں سے مختلف سماجی اور پیشہ ورانہ پس منظر رکھتے ہیں، اس لیے ان کے فیصلے کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم، ان نتائج کو پوری ریاست کے عوامی رجحان کا حتمی پیمانہ قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ان حلقوں کا انتخابی دائرہ اور ووٹروں کی نوعیت مختلف ہے۔
قانون ساز کونسل کے ان انتخابات سے قبل کانگریس کو امید تھی کہ ریاست میں اقتدار پر فائز ہونے کا فائدہ اسے انتخابی میدان میں ملے گا، لیکن نتائج اس کے برعکس سامنے آئے۔ بی جے پی اور جے ڈی (ایس) کے درمیان انتخابی تال میل نے اپوزیشن کو چاروں نشستوں پر کامیابی دلائی، جبکہ کانگریس کسی ایک حلقے میں بھی کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ اس نتیجے سے اپوزیشن اتحاد کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور کانگریس کے لیے اپنی انتخابی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت نمایاں ہوگئی ہے۔
ان نتائج کی روشنی میں کرناٹک کی سیاست میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے کہ آیا بی جے پی۔ جے ڈی (ایس) اتحاد اس کامیابی کو آئندہ بڑے انتخابات میں بھی برقرار رکھ سکے گا یا نہیں۔ فی الحال اتنا واضح ہے کہ قانون ساز کونسل کے ان انتخابات میں اپوزیشن اتحاد نے چاروں نشستیں جیت کر حکمراں کانگریس کو سیاسی دفاع پر مجبور کردیا ہے۔
