Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

کرناٹک میں نندنی دودھ کی قیمت میں فی لیٹر 8 روپے کا اضافہ، یکم نومبر سے نئی شرحیں نافذ

بنگلورو۔ 29 اکتوبر۔ کرناٹک حکومت نے نندنی دودھ کی قیمتوں میں فی لیٹر 8 روپے اضافے کو منظوری دے دی ہے۔ ریاستی کابینہ نے 29 اکتوبر کو اس فیصلے کی منظوری دی، جس کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا۔ اس اضافے کے بعد نیلے پیکٹ میں فروخت ہونے والے عام ٹونڈ دودھ کی قیمت 46 روپے سے بڑھ کر 54 روپے فی لیٹر ہوجائے گی۔قانون و پارلیمانی امور کے وزیر کرشنا بائرے گوڑا نے کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ قیمت میں اضافے کے 8 روپے میں سے 7 روپے ڈیری کسانوں کو دیے جائیں گے، جبکہ ایک روپیہ دودھ یونینوں کو حاصل ہوگا تاکہ وہ بڑھتے ہوئے انتظامی اور عملی اخراجات پورے کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد کسانوں کو بہتر معاوضہ فراہم کرنا اور دودھ کی پیداوار سے وابستہ خاندانوں کو معاشی دشواریوں سے بچانا ہے۔وزیر کے مطابق، کابینہ نے 6 اکتوبر کو ہی قیمتوں میں اضافے کی تجویز منظور کرلی تھی، تاہم قانون ساز کونسل کے انتخابات کے پیشِ نظر ضابطۂ اخلاق نافذ ہونے کے باعث اس کا باضابطہ اعلان مؤخر کردیا گیا تھا۔ انتخابات کے بعد حکومت نے اس فیصلے کا اعلان کیا ہے۔دودھ یونینیں کافی عرصے سے خریداری کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کررہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مویشیوں کی خوراک، چارہ، ادویات، نقل و حمل اور پلاسٹک پیکنگ کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس سے ڈیری کسانوں کی آمدنی متاثر ہورہی ہے۔ خشک سالی کے باعث بعض علاقوں میں چارے کی قلت نے بھی کسانوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔کرشنا بائرے گوڑا نے کہا کہ کرناٹک میں تقریباً 10 لاکھ کسان خاندانوں کا روزگار ڈیری فارمنگ سے وابستہ ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد دودھ کی آمدنی پر اپنے گھریلو اخراجات اور طبی ضروریات پوری کرتی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ قیمتوں میں اضافہ کسانوں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ فراہم کرنے کی سمت ایک ضروری قدم ہے۔وزیر نے یہ بھی کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود نندنی دودھ کئی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں نسبتاً سستا رہے گا۔ ان کے مطابق، دہلی اور مہاراشٹر میں امول دودھ کی قیمت 59 روپے فی لیٹر، گجرات میں 57 روپے، راجستھان میں سارس اور کیرالا میں مِلما دودھ کی قیمت 56 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ تلنگانہ میں وجیا دودھ 64 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمل ناڈو میں آوِن دودھ کی قیمت 40 روپے فی لیٹر ہے۔ریاست کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد بڑھتے ہوئے پیداواری اور نقل و حمل کے اخراجات کے درمیان ڈیری کسانوں کو نقصان سے بچانا ہے۔ بنگلورو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔شیوکمار کے مطابق، قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے بھی دودھ کی قیمتوں پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا تھا، تاہم انتخابات کے باعث حکومت اس فیصلے کا اعلان پہلے نہیں کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں دودھ کی قیمت پڑوسی ریاستوں کے مقابلے میں کم ہے، جبکہ پلاسٹک پیکنگ، ڈیزل اور پٹرول کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ دودھ کی قیمت میں فی لیٹر 12 سے 15 روپے تک اضافے کے مطالبات بھی سامنے آئے تھے، لیکن مختلف فریقوں سے مشاورت کے بعد حکومت نے 8 روپے اضافے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق، کرناٹک میں نسبتاً کم قیمتوں کے باعث دودھ آندھرا پردیش اور مہاراشٹر جیسی پڑوسی ریاستوں کو بھی فراہم کیا جارہا ہے۔دریں اثنا، تعاون کے وزیر لکشمن ساودی نے بتایا کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات نندنی کے دیگر مصنوعات پر بھی مرتب ہوں گے۔ کرناٹک ملک فیڈریشن (کے ایم ایف) گھی، مکھن، پنیر اور دودھ سے تیار ہونے والی دوسری مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نظرثانی کرے گی۔نومبر 2022 کے بعد نندنی دودھ کی قیمتوں میں یہ پانچویں مرتبہ اضافہ ہے۔ اس سے قبل نومبر 2022 میں فی لیٹر 3 روپے، نومبر 2023 میں مزید 3 روپے اور جون 2024 میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ جون 2024 میں قیمت بڑھانے کے ساتھ ہر لیٹر دودھ پر 50 ملی لیٹر اضافی دودھ بھی فراہم کیا گیا تھا، تاہم بعد میں یہ سہولت واپس لے لی گئی۔ مارچ 2025 میں بھی فی لیٹر 4 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ دودھ یونینیں حالیہ عرصے میں پیداواری اخراجات میں اضافے اور کسانوں پر بڑھتے مالی دباؤ کے پیشِ نظر مزید 8 سے 10 روپے فی لیٹر اضافے کا مطالبہ کررہی تھیں۔ ادھر ڈی کے شیوکمار نے ریاستی سرکاری بسوں کے کرایوں میں ممکنہ اضافے کے معاملے پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے چاروں ٹرانسپورٹ کارپوریشن مالی مشکلات سے دوچار ہیں اور بعض اوقات ڈیزل کی خریداری کے لیے بھی فنڈز کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق، شکتی اسکیم کے تحت خواتین کو مفت بس سفر کی سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت مالی وسائل خرچ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ محکمے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مالی صورتِ حال کا جائزہ لے کر بس کرایوں میں ممکنہ اضافے کے بارے میں فیصلہ کرے۔