اللہ تعالیٰ کا بے پایاں شکر ہے کہ اس نے ہمیں قرآن مجید جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ یہ محض ایک مقدس کتاب نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رہنمائی اور زندگی گزارنے کا مکمل دستور ہے۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں ایک اہم فکری پہلو ایسا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ ہے قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ اس کے مفہوم اور پیغام کو سمجھنے کی کوشش۔ مولانا سجاد نعمانی نے اپنے خطاب میں نہایت درد مندی اور اخلاص کے ساتھ ایک ایسی بات کی طرف توجہ دلائی ہے جسے ہر مسلمان کو اپنے دل میں جگہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت یقیناً باعثِ اجر و ثواب ہے، لیکن ہماری ذمہ داری صرف الفاظ کی تلاوت تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہمیں یہ جاننے کی بھی کوشش کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا فرما رہا ہے، اس کے احکامات کیا ہیں اور ہماری زندگی کے لیے اس میں کیا رہنمائی موجود ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن مجید کسی ایک طبقے، کسی مخصوص پیشے یا صرف علماء و دانش وروں کے مطالعے کی کتاب نہیں ہے۔ آپ تاجر ہیں، مزدور ہیں، لوہار ہیں، کسان ہیں، انجینئر ہیں، استاد ہیں، طالب علم ہیں یا کسی بھی شعبۂ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، قرآن کا پیغام آپ سب کے لیے ہے۔ عمر، پیشہ، مصروفیات اور معاشرتی حیثیت اس بات میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے کہ انسان اپنے رب کے کلام کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ہم میں سے بہت سے لوگ روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں، رمضان المبارک میں پورا قرآن ختم کرنے کا اہتمام بھی کرتے ہیں، مساجد میں تلاوت کی محفلیں بھی سجتی ہیں اور گھروں میں بھی قرآن خوانی ہوتی ہے۔ یہ تمام اعمال اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں، لیکن ایک سوال ہمیں خود سے ضرور کرنا چاہیے کہ جس کتاب کی تلاوت ہم برسوں سے کر رہے ہیں، کیا ہم نے کبھی اس کے پیغام کو سمجھنے کے لیے باقاعدہ وقت نکالا؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ جن آیات کی ہم روزانہ تلاوت کرتے ہیں، ان میں ہمارے لیے کیا احکامات، کیا نصیحتیں اور کیا رہنمائی پوشیدہ ہے؟مولانا سجاد نعمانی کی دعوتِ فکر کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ لوگوں سے کوئی غیر معمولی یا مشکل کام کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ ہر شخص فوری طور پر پورا قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھنے بیٹھ جائے یا اپنی تمام مصروفیات ترک کردے، بلکہ ان کی تجویز نہایت آسان، قابلِ عمل اور مؤثر ہے کہ روزانہ قرآن مجید کے ترجمے کا صرف ایک رکوع پڑھنے کی عادت ڈال لیجیے۔ اگر ہر مسلمان روزانہ چند منٹ نکال کر ایک رکوع کا ترجمہ پڑھنے لگے تو رفتہ رفتہ قرآن کے مفہوم سے اس کی واقفیت بڑھتی جائے گی اور اس کے اندر کلامِ الٰہی کو سمجھنے کا ذوق بھی پیدا ہوگا۔ذرا غور کیجیے! ہم روزانہ اپنے کاروبار، ملازمت، تعلیم، موبائل فون، سوشل میڈیا اور دیگر مصروفیات کے لیے گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔ خبروں، تبصروں اور تفریحی مواد کے مطالعے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، لیکن کیا اپنے رب کے پیغام کو سمجھنے کے لیے روزانہ دس یا پندرہ منٹ بھی نہیں نکال سکتے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔قرآن مجید کو سمجھنے کا مطلب محض اس کے الفاظ کا ترجمہ پڑھ لینا ہی نہیں، بلکہ اس کے احکامات کو اپنی زندگی میں جگہ دینا، اس کی تعلیمات پر غور کرنا اور اپنی عملی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا بھی ہے۔ ترجمہ پڑھنے کے بعد اگر کسی آیت کا مفہوم سمجھنے میں دشواری ہو تو معتبر تفاسیر اور اہلِ علم سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنے بچوں میں قرآن فہمی کا ذوق پیدا کریں، اساتذہ طلبہ کو قرآن کے مفہوم سے روشناس کرائیں، نوجوان اپنی روزمرہ مصروفیات میں قرآن کے ترجمے کے مطالعے کو شامل کریں اور مساجد و دینی ادارے بھی اس سلسلے میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کریں۔ گھروں میں ایسا ماحول بنایا جائے جہاں صرف تلاوت ہی نہیں بلکہ قرآن کے پیغام پر گفتگو اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب بھی دی جائے۔یاد رکھیے! قرآن مجید ہمارے گھروں میں موجود ہو، ہماری زبانوں پر اس کی تلاوت جاری ہو اور ہماری محفلوں میں اس کا ذکر بھی ہوتا رہے، یہ یقیناً بڑی سعادت ہے؛ لیکن اس سے بھی اہم یہ ہے کہ اس کی ہدایت ہمارے دلوں میں اترے اور ہمارے کردار و معاملات میں نمایاں ہو۔آئیے! آج ہی اپنے آپ سے ایک عہد کریں کہ روزانہ قرآن مجید کے ترجمے کا کم از کم ایک رکوع ضرور پڑھیں گے۔ اس چھوٹی سی عادت کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائیں گے اور اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور نوجوان نسل کو بھی اس کی ترغیب دیں گے۔کیونکہ اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ ہماری زبان قرآن کی تلاوت سے تر رہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہماری زندگی قرآن کی تعلیمات سے سنور جائے۔ قرآن کو صرف پڑھنے کی کتاب نہیں، سمجھنے، غور کرنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کتاب بنائیے۔ یہی اس پیغام کی روح ہے اور یہی ایک بامقصد قرآنی زندگی کی جانب پہلا قدم ہے۔
