Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

حالات کا اسلامی تناظر سے مجتمع اور منظم ہو کر تجزیہ کریں: اطہر اللہ شریف

مثبت تبدیلی آ رہی ہے، مستقبل روشن ہے، وقت اور وسائل کو اللہ کے دین کے لیے لگائیں: محمد آصف الدین

وابستگان جماعت اسلامی ہند بیدر کے مرد و خواتین کا ایک روزہ اجتماع

بیدر۔ 21؍اکتوبر (پریس ریلیز): ایم جی فنکشن ہال، حمیلہ پور، بیدر میں ایک روزہ تربیتی اجتماع برائے وابستگانِ جماعتِ اسلامی ہند بیدر ’فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ‘ کے عنوان پر منعقد ہوا۔ سورۃ المؤمنون (ابتدائی گیارہ آیات) کے اجتماعی مطالعہ قرآن سے اجتماع کا باضابطہ آغاز عمل میں آیا۔ جناب محمد معظم صاحب امیرِ مقامی جماعتِ اسلامی ہند بیدر نے نگرانی کی اور رفقاء کے تعاون سے کارروائی چلائی۔ ’وابستگانِ جماعت کا معیارِ مطلوب‘ کے عنوان سے جناب اطہر اللہ شریف صاحب رکنِ شوریٰ JIH حلقہ کرناٹک نے خطاب کیا۔ مذکورہ عنوان کے تحت موصوف نے پانچ امور پر گفتگو کی: صحیح فہمِ دین، اسلام اور غیر اسلام میں فرق، تنظیم سے علمی وابستگی، اخلاقی وابستگی، قلبی و روحانی وابستگی پر سیر حاصل کلام کیا۔ علاوہ ازیں موصوف نے اپنی اختتامی تقریر میں اجتماع کے مرکزی عنوان ’فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ‘ کو موضوع بناتے ہوئے وقت کے مختلف نظاموں کے سامنے اسلام کے مکمل دینی ہونے اور انسانیت کے لیے موزوں سسٹم ہونے کی بات کی۔ اور کہا کہ حالات کا اسلامی تناظر سے مجتمع اور منظم ہو کر تجزیہ ضروری ہے۔
جناب محمد ضیاء اللہ صاحب ناظم علاقہ JIH گلبرگہ زون نے ’سمع و طاعت‘ کے عنوان سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت غیر مشروط کی جائے گی اور امیر کی اطاعت مشروط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی گھر، کوئی ادارہ، کوئی سسٹم بھی دنیا میں سمع و طاعت کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اسلام نے جماعت بنا کر زندگی کرنے کو لازم قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رفقائے تحریکِ اسلامی کو چاہیے کہ اپنے ہر کام میں اخلاص و للہیت پیدا کریں۔
جناب محمد آصف الدین رکنِ شوریٰ JIH حلقہ کرناٹک نے ’وقت، صلاحیت اور وسائل کو اللہ کے دین کے لیے استعمال کرنا‘ موضوع پر تقریر کی۔ موصوف نے قرآنِ مجید کی آیت ”اللہ نے اہل ایماں کی جانوں کو جنت کے بدلے میں خرید لیا ہے“ پر گفتگو کی۔ دعائے قوت کی معنویت کو بیان کرتے ہوئے مومنانہ زندگی کے لیے ضروری عہد نامے کے طور پر پیش کیا۔ وقت اور صلاحیتوں کے با مقصد استعمال کی تلقین کی اور مختلف تحریکی شخصیات کی مثالیں بھی پیش کیں۔ اور بتایا کہ مثبت تبدیلی آ رہی ہے، مستقبل روشن ہے، وقت اور وسائل کو اللہ کے دین کے لیے لگانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔
اجتماع کے دوسرے سیشن کا آغاز جناب محمد عبدالجمیل صاحب کارکن کے پیش کردہ تحریکی ترانے ”میرا جینا، میرا مرنا الٰہی تیری خاطر ہو“ سے ہوا— انہوں نے اپنی مترنم آواز سے سمع باندھ دیا۔ بعد ازاں مردوں کے بارہ گروپس اور خواتین کے پانچ گروپس کے درمیان، جماعت کے میقاتی منصوبے لیے گئے ’دعوت، اسلامی معاشرہ، خدمتِ خلق اور تزکیۂ نفس‘ عنوانات کے تحت مباحثہ کروایا گیا، اور اس کا حاصل تمام شرکاء اجتماع کے سامنے پیش کیا گیا۔ جس پر جناب اقبال غازی ناظم ضلع JIH بیدر نے صدارتی تبصرہ کیا اور رفقائے کرام کی رہنمائی کی۔
اس کے بعد محترمہ خدیجہ شیرین صاحبہ نے ’میدانِ حشر کے پانچ سوالات‘ پر مبنی درسِ حدیث پیش کیا، اور کہا کہ میدانِ حشر میں کسی بھی فرد کے قدم اس وقت تک ہٹ نہیں سکیں گے جب تک کہ ان کے جوابات نہ لے لیے جائیں: (1) عمر کہاں گزاری؟ (2) علم کتنا حاصل کیا اور اس پر عمل کتنا کیا؟ (3) جوانی کیسے بتائی؟ (4) مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ (5) نیز صحت وتندرستی کا استعمال کیسے کیا۔ موصوفہ نے توجہ دلائی کہ خدا کی عدالت کے مذکورہ سوالات کی ہمیں تیاری کرنی چاہیے۔
برادر محمد خضر انصار نے سارے اجتماع کی کارروائی بحسن و خوبی چلائی۔ ناظمِ اجتماع جناب سید ابراہیم تھے۔ محمد عارف الدین معاون امیر مقامی، ڈاکٹر نوید احمد معاون امیر مقامی نے تمام ٹیم کو لے کر انتظامات بحسن و خوبی انجام دیے۔ مسز توحیدہ سندھے ضلعی ذمہ دار، اسماء سلطانہ ناظمہ خواتین بیدر، ڈاکٹر بشریٰ احمد، آئیٹا خواتین کی کنوینر بلقیس فاطمہ، خورشید احمد صدر آئیٹا، شہر بیدر صدر اعظم پاشاہ اور دیگر ذمہ داران بڑی تعداد میں موجود تھے۔ یہ اجتماع برادرانِ ملت اور خواہرانِ ملت کو موجودہ حالات میں پوری دلچسپی، امید اور توقع کے ساتھ با مقصد اور زندگی گزارنے کے لیے اہم مہمیز کا کام کرے گا۔ اس سے پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذرائع بنے گا۔ اجتماع کے آخر میں مرحوم شیخ احمد صاحب، صدر مسجد سوداگران، تلاوڑی کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور اجتماع اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ اطلاع جناب محمد صلاح الدین اسسٹنٹ JIH میڈیا انچارج نے دی ہے۔