Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

رائچور میں قبروں سے انسانی ہڈیاں نکال کر میڈیکل کالج کو سپلائی کرنے کا مبینہ دھندا بے نقاب، تین گرفتار

رائچور ۔27 /اکتوبر۔ کرناٹک کے ضلع رائچور میں ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں قبرستان میں دفن انسانی باقیات مبینہ طور پر قبروں سے نکال کر ایک نجی میڈیکل کالج تک پہنچائی جا رہی تھیں۔ پولیس نے اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شدگان میں قبرستان کا ایک ملازم اور نجی میڈیکل کالج سے وابستہ دو افراد شامل ہیں۔ پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ انسانی باقیات کی غیر قانونی منتقلی کا یہ سلسلہ کب سے جاری تھا اور اس میں مزید کون کون ملوث ہوسکتا ہے، یہ معاملہ رائچور شہر کے مروتی نگر قبرستان میں سامنے آیا، جو منترالیہ روڈ پر آکاشوانی کے احاطے کے عقب میں واقع ہے۔ مقامی باشندوں نے قبرستان میں مشتبہ سرگرمیاں دیکھنے اور قبروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی شکایت پولیس سے کی تھی۔ شکایت کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں، جس کے دوران تین افراد کو حراست میں لے کر گرفتار کیا گیا۔رفتار ملزمین کی شناخت 28 سالہ ویرش تلاوارا انجنیہ، 35 سالہ راجو نرساپا اور 32 سالہ ایم ڈی افضل جونیمیا کے طور پر کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ویرش قبرستان میں دیکھ بھال اور قبریں کھودنے کا کام کرتا تھا، جبکہ راجو اور افضل ایک نجی میڈیکل کالج سے وابستہ تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ قبرستان کے ملازم کی مدد سے قبروں میں دفن لاشوں کی ہڈیاں اور دیگر انسانی باقیات نکالی جاتی تھیں اور بعدازاں انہیں دوسرے ملزمین کے حوالے کیا جاتا تھا۔ایک رپورٹ کے مطابق، مقامی تاجر جگدیش نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 23 اکتوبر کو دوپہر تقریباً ڈھائی بجے انہوں نے اپنے ساتھی ونود کمار کے ساتھ قبرستان میں دو افراد کو ایک قبر سے انسانی ڈھانچہ نکالتے اور ہڈیوں کو پلاسٹک کے تھیلے میں رکھتے ہوئے دیکھا۔ مقامی افراد کے اعتراض کرنے پر مشتبہ افراد وہاں سے چلے گئے، تاہم ایک شخص کی شناخت کرلی گئی۔رپورٹ کے مطابق، اگلے روز جگدیش نے قبرستان کے ملازم ویرش سے اس معاملے میں پوچھ گچھ کی، جس کے بعد مبینہ طور پر انسانی باقیات نکالنے اور انہیں فروخت کرنے کے بارے میں معلومات سامنے آئیں۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمین کو گرفتار کیا اور معاملے کی مزید تفتیش شروع کردی۔تحقیقات کے دوران یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ انسانی باقیات کے عوض رقم ادا کی جاتی تھی۔ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہر لاش کی باقیات کے لیے تقریباً 3,000 روپے طے کیے جانے اور 700 روپے پیشگی ادا کیے جانے کا شبہ ہے۔ دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ میں انسانی باقیات کے عوض 2,000 سے 3,000 روپے تک ادائیگی کے الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، رقم کی ادائیگی، مبینہ لین دین کی نوعیت اور اس میں دوسرے افراد کے کردار کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ پولیس ان تمام پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے۔پولیس کو شبہ ہے کہ انسانی باقیات نکالنے اور منتقل کرنے کا یہ مبینہ سلسلہ گزشتہ دو سے تین برس یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے جاری ہوسکتا ہے۔ مقامی باشندوں نے الزام لگایا ہے کہ قبرستان میں بعض قبروں کے آثار مٹانے کے لیے انہیں دوبارہ مٹی سے ڈھانپ دیا جاتا تھا اور انسانی ہڈیاں و کھوپڑیاں ادھر ادھر بکھری ہوئی دیکھی گئی تھیں۔ ان الزامات کی مکمل تصدیق تفتیش کے بعد ہی ہوسکے گی۔ پولیس اس بات کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ قبروں سے کتنی انسانی باقیات نکالی گئیں، انہیں کہاں منتقل کیا گیا اور اس عمل میں مزید کتنے افراد شامل تھے۔ائچور کی ڈپٹی کمشنر پوویتا ایس کے مطابق، ملزمین سے پوچھ گچھ جاری ہے اور انہوں نے مبینہ طور پر انسانی باقیات نوودیا میڈیکل کالج کو فراہم کرنے کی بات کہی ہے۔ انتظامیہ اس دعوے کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا انسانی باقیات واقعی مذکورہ ادارے تک پہنچائی گئیں اور اگر ایسا ہوا تو انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ تاحال یہ ثابت نہیں ہوا ہے کہ میڈیکل کالج کی انتظامیہ اس مبینہ غیر قانونی سرگرمی میں شریک تھی۔ ادارے کے دیگر ملازمین یا عہدیداروں کے ممکنہ کردار کا تعین بھی تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔پولیس نے اس معاملے میں رائچور کے نیتاجی نگر پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS)، 2023 کی دفعات 301 اور 303(2) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق، تحقیقات کا مقصد مبینہ غیر قانونی سرگرمی کے پورے سلسلے، انسانی باقیات کی منتقلی اور اس میں ملوث تمام افراد کا پتہ لگانا ہے۔قبرستانوں میں دفن افراد کی باقیات کا احترام، سوگوار خاندانوں کے جذبات کا تحفظ اور طبی تعلیم کے لیے انسانی باقیات کے حصول میں قانونی ضابطوں کی پابندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اب اس معاملے میں پولیس کی تحقیقات سے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ انسانی باقیات کی مبینہ منتقلی کس حد تک ہوئی، اس کے پیچھے کون لوگ تھے اور متعلقہ ادارے تک ان کی رسائی کس طریقے سے ہوئی۔