بنگلورو۔ 23 / اکتوبر۔ کرناٹک میں آئندہ موسمِ گرما کے دوران بجلی کی یومیہ طلب بڑھ کر تقریباً 21 ہزار میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ محکمۂ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق، ریاست میں گرمیوں کے دوران بجلی کی طلب 2025 میں 18,650 میگاواٹ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، جبکہ ناکافی بارش اور شدید گرمی کے باعث ستمبر 2026 میں یہ طلب 20 ہزار میگاواٹ تک جا پہنچی۔ محکمۂ توانائی کے ذرائع کے مطابق، آئندہ سال طلب میں مزید ایک ہزار میگاواٹ اضافے کی توقع ہے۔محکمۂ توانائی کے ایڈیشنل چیف سکریٹری گورو گپتا نے کہا کہ حکومت کو آئندہ موسمِ گرما میں درجۂ حرارت میں اضافے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کا پورا اندازہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی ضروری تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مانسون کی ناکامی کے باعث ایئر کنڈیشنر اور دیگر ٹھنڈک کے آلات کے استعمال میں جو اضافہ ہوا ہے، نومبر اور دسمبر میں اس میں کمی آئے گی۔گورو گپتا کے مطابق، ریاست کے پاس بجلی کے مختلف ذرائع سے تقریباً 2 ہزار سے 3 ہزار میگاواٹ اضافی گنجائش دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ، شاکتی (SHAKTI) پالیسی یعنی اسکیم فار ہارنسنگ اینڈ ایلوکیٹنگ کوئلہ ٹرانسپیرنٹلی اِن انڈیا کے تحت یکم اپریل 2027 سے نجی بجلی پیدا کرنے والے اداروں سے تقریباً 400 میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ موسمِ گرما میں بجلی کی شدید قلت کے دوران کرناٹک نے اتر پردیش، پنجاب اور ہریانہ سے بجلی حاصل کی تھی۔ ان ریاستوں کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق، ادھار لی گئی بجلی کی واپسی کا عمل 30 ستمبر 2026 تک مکمل کرلیا گیا۔ معاہدے کے تحت یکم نومبر 2026 سے ان ریاستوں کی جانب سے کرناٹک کو روزانہ ایک ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کیے جانے کا سلسلہ شروع ہوگا۔
ریاستی حکومت بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہماچل پردیش، اڈیشہ اور آسام سے بھی اضافی بجلی حاصل کرنے کی امید رکھتی ہے۔ گورو گپتا نے کہا کہ ’ایک ملک، ایک گرڈ، ایک فریکوئنسی‘ نظام کے تحت ان ریاستوں میں پیدا ہونے والی اضافی بجلی سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔ مرکزی بجلی پیدا کرنے والے مراکز (سی جی ایس) اور کرناٹک پاور کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی سی ایل) کے تھرمل اور پن بجلی گھروں کی تقریباً 3 ہزار میگاواٹ صلاحیت سمیت مختلف ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے ریاست میں مجموعی طور پر 20 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔تاہم، محکمۂ توانائی کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ریاست میں پن بجلی کی پیداوار میں تقریباً 60 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال ستمبر اور اکتوبر کے دوران پن بجلی کی پیداوار 5,096 ملین یونٹ (ایم یو) تھی، جو رواں سال اسی مدت میں گھٹ کر 2,100 ملین یونٹ رہ گئی۔ پن بجلی کی پیداوار میں یہ نمایاں کمی آئندہ موسمِ گرما میں بجلی کی فراہمی کے انتظامات کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔فی الحال حکومت کی جانب سے بجلی کے استعمال میں کمی لانے کے لیے کوئی باضابطہ ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے، تاہم گورو گپتا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بجلی کا استعمال احتیاط اور کفایت شعاری کے ساتھ کریں۔ انہوں نے خصوصاً ایئر کنڈیشنر استعمال کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ درجۂ حرارت مناسب سطح پر رکھیں اور اسے 22 سے 24 ڈگری سیلسیئس سے کم نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر عوام کو توانائی کی بچت پر توجہ دینی چاہیے، جس سے نہ صرف بجلی کے بلوں میں کمی آئے گی بلکہ ریاست میں بجلی کی مجموعی طلب کو متوازن رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔
