Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

کرناٹک میں کسانوں کا 27 اکتوبر کو ریاست گیر بند کا انتباہ، وزیر اعلی کے سامنے تین اہم مطالبات رکھیں گے

کرناٹک کے کسانوں نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے ریاستی حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے 27 اکتوبر کو ریاست گیر بند منانے کا انتباہ دیا ہے۔ کسان قائدین نے واضح کیا ہے کہ اگر 26 اکتوبر کو وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ ہونے والی مجوزہ ملاقات میں ان کے مطالبات پر اطمینان بخش فیصلہ نہیں کیا گیا تو اگلے ہی دن ریاست بھر میں بند منایا جائے گا۔کرناٹک رعیت سنگھا ہسیرو سینے کے جنرل سکریٹری پریم چوگلا نے کہا کہ کسانوں کو امید تھی کہ وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ ملاقات میں ان کے مسائل حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران تین اہم مطالبات پیش کیے جائیں گے۔ ان میں ریاستی حکومت کی جانب سے فی ٹن گنے پر ایک ہزار روپے کی امدادی رقم فراہم کرنا، شکر کارخانوں کی جانب سے فی ٹن گنے کی قیمت 4,500 روپے مقرر کرنا اور گنے کے وزن کے دوران کائی یا کیچڑ کے نام پر مبینہ طور پر کی جانے والی غیر قانونی کٹوتیوں کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کرنا شامل ہے۔پریم چوگلا نے خبردار کیا کہ اگر ریاستی حکومت نے کسانوں کے مطالبات پر مناسب ردعمل ظاہر نہیں کیا تو کسان ریاست گیر بند کی اپیل کریں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل 17 اکتوبر کو بھی گنا پیدا کرنے والے اضلاع کے کسانوں نے اپنے مطالبات کو لے کر ریاستی اور مرکزی حکومتوں سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ اس سلسلے میں جاری احتجاج کے دوران بیلگاوی کے ڈپٹی کمشنر محمد روشن نے کہا تھا کہ دونوں حکومتوں کی جانب سے کسانوں کے مفاد میں فیصلے کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔محمد روشن کے مطابق بیلگاوی، باگل کوٹ، وجئے پورہ، ہبلی۔دھارواڑ اور ہاویری اضلاع کے کسان گزشتہ تین دن سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کررہے تھے۔ کسانوں کے مطالبات میں شکر کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) بڑھا کر 60 روپے مقرر کرنا بھی شامل ہے، تاہم کسانوں نے اس معاملے پر حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔کسانوں کا دوسرا اہم مطالبہ یہ ہے کہ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے کرناٹک کو ایتھنول کی سو فیصد مختص مقدار فراہم کی جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ گزشتہ سال ریاست کو اس کا صرف 30 سے 40 فیصد حصہ ہی ملا تھا، جس کے نتیجے میں ایتھنول اور شکر کے کئی کارخانوں کی پیداواری صلاحیت پوری طرح استعمال نہیں ہوسکی۔ اس صورتِ حال سے کارخانوں کو مالیاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کسانوں کو گنے کی قیمت کی ادائیگی بھی متاثر ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرناٹک کو ایتھنول کی مکمل مختص مقدار فراہم کرنے سے مکئی پیدا کرنے والے کسانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا، کیونکہ ایتھنول کی تیاری کے لیے مکئی بھی ایک اہم خام مال ہے۔کسانوں کا تیسرا مطالبہ گھریلو استعمال اور تجارتی مقاصد کے لیے فروخت کی جانے والی شکر کی قیمتیں الگ الگ مقرر کرنے سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تجارتی شکر کی قیمت نسبتاً زیادہ مقرر کی جائے تاکہ شکر کارخانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو اور اس کا فائدہ بالواسطہ طور پر گنا کاشت کرنے والے کسانوں کو بھی پہنچ سکے۔ڈپٹی کمشنر محمد روشن نے بتایا کہ انہوں نے ان مسائل کے بارے میں مرکزی وزیر اور وزیرِ اعلیٰ کے دفاتر سے رابطہ کیا ہے۔ دونوں حکومتوں کی جانب سے کسانوں کے مفاد میں فیصلے کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، ساتھ ہی احتجاج کرنے والے کسانوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مطالبات پر جاری مذاکرات کے دوران پُرامن رہیں۔ دوسری جانب کسان قائدین نے واضح کیا ہے کہ 26 اکتوبر کو وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے نتائج ہی آئندہ احتجاجی لائحۂ عمل کا تعین کریں گے۔ اگر مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو 27 اکتوبر کو ریاست گیر بند کے اعلان پر عمل کیا جاسکتا ہے۔