بنگلورو، 26 اکتوبر: کرناٹک کے مسلمانوں سے متعلق ایک اہم اور تشویش ناک خبر سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب میں پروازوں کی منسوخی اور فضائی آپریشن میں خلل کے باعث کرناٹک کے 600 سے زائد عمرہ زائرین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے ان کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے مرکزی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے، جبکہ ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود، حج و اوقاف یو ٹی قادر نے خبردار کیا ہے کہ اگر 27 اکتوبر تک متعلقہ فضائی کمپنیاں زائرین کی واپسی کا انتظام نہیں کرتیں تو حج کمیٹی سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے 23 اکتوبر کو مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو خط لکھ کر زائرین کی جلد واپسی اور ضرورت پڑنے پر خصوصی پروازوں کا انتظام کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق، کئی زائرین کے مالی وسائل ختم ہوچکے ہیں اور انہیں کھانے پینے اور رہائش کے مسائل کا سامنا ہے۔ بعض ہوٹلوں کی جانب سے کمروں کو خالی کرنے کے لیے کہے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے بزرگوں، خواتین اور بچوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ریاستی حکومت کے مطابق، ہندوستانی سفارت خانہ ریاض اور جدہ میں ہندوستانی قونصل خانہ ایئرلائنز اور ٹور آپریٹرس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ زائرین اور ان کے اہلِ خانہ کی مدد کے لیے ریاستی حکومت نے بھی ہیلپ لائن قائم کی ہے۔اہلِ خانہ کے لیے ہیلپ لائن: 9483503132۔ اس نمبر کی اطلاع دی نیو انڈین ایکسپریس نے 25 اکتوبر کی رپورٹ میں دی ہے۔ رابطہ کرنے سے پہلے نمبر کی تازہ فعالیت کی تصدیق کرلیں۔ یو ٹی قادر نے واضح کیا ہے کہ جن کمپنیوں نے زائرین کے واپسی کے ٹکٹ جاری کیے تھے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسافروں کو واپس لانے کے لیے ضروری انتظامات کریں۔ تاہم، 26 اکتوبر تک دستیاب رپورٹوں میں تمام زائرین کی واپسی کے لیے پروازوں کے بحال ہونے یا کسی حتمی شیڈول کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔متاثرہ خاندانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ٹور آپریٹر، ایئرلائن اور متعلقہ ہیلپ لائن سے رابطے میں رہیں اور سرکاری ہدایات کے بغیر اضافی ٹکٹ خریدنے کا فیصلہ نہ کریں۔
ماخذ: دی نیو انڈین ایکسپریس، انڈین
