Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

بیدر میں 23 اکتوبر کو جمہوریت کے تحفظ کے لیے احتجاجی مظاہرہ، عوام سے شرکت کی اپیل


بیدر، 21 اکتوبر۔(پریس نوٹ )۔ جمہوریت کے تحفظ اور انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے مطالبے کے ساتھ ’پیپلز اگینسٹ ایس آئی آر‘ بیدر کی جانب سے 23 اکتوبر کو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جائے گا۔ یہ مظاہرہ دوپہر 3 بجے بیدر شہر کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سرکل پر ہوگا۔ تنظیم نے طلبہ، نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں، خواتین، وکلا اور عام شہریوں سے کثیر تعداد میں شرکت کی اپیل کی ہے۔تنظیم کی جانب سے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کا جمہوری نظام سنگین بحران سے دوچار ہے۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انتخابی عمل کو متاثر کیا جا رہا ہے اور رائے دہندگان کی فہرستوں میں ردوبدل کے باعث عوام کے جمہوری حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ تنظیم نے انتخابی کمیشن کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے متحد ہوکر آواز بلند کریں۔بیان کے مطابق، 14 اکتوبر کو طلبہ، نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں، خواتین، دلتوں، آدیواسیوں، اقلیتوں، معذور افراد، خواجہ سراؤں اور دیگر عوامی تنظیموں کے نمائندوں نے ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں ’پیپلز اگینسٹ ایس آئی آر‘ کے نام سے ایک وسیع اتحاد تشکیل دیا گیا۔ اس اتحاد نے جمہوریت کی بحالی اور ملک بھر میں احتجاجی مراکز قائم کرنے کے مقصد سے 23 اکتوبر کو عوامی جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے۔تنظیم نے اپنے پیغام میں نعرہ دیا ہے: ہر ہاتھ میں ترنگا، ہر گلی میں جنتر منتر!‘‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ اب مزید انتظار کا وقت نہیں، بلکہ عوام کو اپنے اپنے علاقوں میں پہل کرتے ہوئے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے آگے آنا چاہیے۔ یہ عوامی تحریک ہے اور اس کی کامیابی کے لیے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔بیان میں نوجوانوں کو تحریک میں آگے آنے کا موقع دینے پر زور دیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے، اس لیے جمہوریت کی بحالی کے لیے نوجوانوں کے ساتھ مل کر اجتماعی جدوجہد کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔تنظیم نے انڈیا اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ 23 اکتوبر کے عوامی جلوس میں شرکت کریں اور ملک بھر میں جنتر منتر کی طرز پر منعقد کیے جانے والے احتجاجی پروگراموں کو تقویت پہنچائیں۔تنظیم کے اہم مطالبات’پیپلز اگینسٹ ایس آئی آر‘ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ خصوصی نظرثانی کے عمل کو منسوخ کرنے اور رائے دہندگان کی فہرستوں سے حذف کیے گئے تمام ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔تنظیم نے انتخابی کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون میں کی گئی متنازع ترمیم کو منسوخ کرنے، غیر جانب دارانہ طریقۂ کار کے ذریعے نئے انتخابی کمیشن کی تشکیل اور رائے دہندگان کی فہرستوں کی منصفانہ نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔بیان میں کاغذی ووٹ پرچوں کے ذریعے ووٹنگ کا نظام دوبارہ رائج کرنے اور انتخابی اصلاحات کے ذریعے منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔پریس ریلیز کے اختتام پر تنظیم نے نعرہ دیا ہے: ’’تمام اختیارات عوام کے لیے، آئین کی بالادستی قائم ہوگی، سازش ناکام ہوگی!‘‘ تنظیم نے نوجوانوں، طلبہ، کسانوں، وکلا، خواتین اور تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاج میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوکر جمہوری اقدار کے تحفظ کی جدوجہد کو مضبوط بنائیں۔اپیل کرنے والوں کے نام پریس ریلیز جاری کرنے والوں میں ایڈوکیٹ بابو راؤ ہونّا، ڈاکٹر مقصود چندا، ایڈوکیٹ سرفراز ہاشمی، محمد نظام الدین (ریٹائرڈ پرنسپل)، اوم پرکاش روٹے (سماجی کارکن)، سید مبشر علی ابو صدر عیدگاہ بیدر ، وٹھل داس پے گے (ریٹائرڈ پرنسپل)، مہیش گورنا لکر، سید ابراہیم ڈبلیو پی آئی ، وین مارگے اور محمد فیاض الدین سماجی کارکن شامل ہیں۔نوٹ: انتخابی عمل اور انتخابی کمیشن سے متعلق الزامات اور مطالبات تنظیم کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز پر مبنی ہیں۔