Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

برمس کو سالانہ 6.14 کروڑ روپے کی بچت، مالی بوجھ کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات: ڈاکٹر شانتا لا کوجالگی


بیدر۔20/اکتوبر۔ بیدر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (برمس) جو مالی بوجھ کے سبب مشکلات کا سامنا کر رہا تھا، اب مالی استحکام کی جانب گامزن ہے۔ گزشتہ اپریل سے مختلف اخراجات پر قابو پانے اور مالی انتظامات میں بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں ادارے کو سالانہ تقریباً 6.14 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔ یہ اطلاع برمس کی ڈائریکٹر ڈاکٹر شانتا لا کوجالگی نے ایک پریس ریلیز میں دی۔انہوں نے بتایا کہ ان کی اور مالی مشیر پرکاش سوریہ ونشی کی قیادت میں اسپتال کے مختلف شعبوں کے اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا اور مالی بوجھ کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ اسپتال میں داخل مریضوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے اور ناشتے، بجلی، طبی آکسیجن، ایچ این ایس، ڈیزل، ادویات کی خریداری، ٹینڈر، اسٹیشنری اور حیاتیاتی طبی فضلے کے انتظام سمیت مختلف خدمات کے اخراجات میں بچت کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف ادارے کی مالی صورتِ حال بہتر ہوگی بلکہ مریضوں کو معیاری طبی سہولتیں فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ڈاکٹر شانتا لا کوجالگی نے بتایا کہ سابق ڈائریکٹروں اور مالی مشیروں کے دور میں جیسکام اور بلدیاتی ادارے سے متعلق کروڑوں روپے کے بل اور ٹیکس واجب الادا تھے۔ ان کے اور مالی مشیر پرکاش سوریہ ونشی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد بلدیہ کو 4.75 کروڑ روپے پراپرٹی ٹیکس اور ایک کروڑ روپے پانی کے ٹیکس کی مد میں ادا کیے گئے۔ اس کے علاوہ بجلی کے بقایاجات بھی ادا کرکے ادارے پر مالی بوجھ کم کیا گیا ہے۔ ان ادائیگیوں سے برمس کی مالی حالت میں بہتری آئی ہے اور اسپتال کے روزمرہ امور چلانے کے ساتھ مریضوں کو ضروری خدمات فراہم کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔برمس کے مختلف ٹینڈروں کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ڈائریکٹر نے واضح کیا کہ ادویات، کیمیائی مادوں، ری ایجنٹس، کمپیوٹروں، برقی آلات، پلمبنگ اور کیٹرنگ خدمات سمیت مختلف اشیا کی خریداری اور خدمات کے حصول میں شفافیت برقرار رکھی گئی ہے اور کسی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ انہوں نے اس الزام کا بھی ذکر کیا کہ 2023 سے ٹینڈر طلب کیے بغیر کوٹیشن کی بنیاد پر خریداری اور خدمات کے حصول کا عمل جاری تھا۔ ان کے مطابق، اب خریداری اور خدمات سے متعلق کارروائیاں مقررہ ٹینڈر نظام کے تحت انجام دی جارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ادارے میں شفافیت بڑھانے کے اقدامات سے ناخوش بعض افراد دانستہ طور پر الزامات عائد کررہے ہیں۔ڈاکٹر شانتا لا کوجالگی نے کہا کہ کرناٹک میں سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت سے متعلق قانون (کے ٹی پی پی) سمیت متعلقہ قوانین اور ضوابط کی درست معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی الزامات عائد کیے جانے چاہئیں۔ اگر کسی بولی دہندہ کو ٹینڈر کی شرائط پر اعتراض ہو تو وہ مقررہ ضابطوں کے مطابق اپیل دائر کرسکتا ہے۔ڈائریکٹر نے بتایا کہ 24 اپریل 2026 کو منعقدہ قبل از بولی اجلاس میں ممکنہ بولی دہندگان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور پیش کردہ درخواستوں کے پیش نظر سالانہ چھ کروڑ روپے کے کاروباری لین دین سے متعلق شرط کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد ٹینڈر کی مالیت کے 80 فیصد کے مساوی کاروباری لین دین کو اہلیت کے معیار کے طور پر مقرر کرتے ہوئے متعلقہ شرط میں ترمیم کی گئی۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حالیہ ٹینڈروں میں درج نرخ 2023 اور 2021 کے سابقہ ٹینڈروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔ ان کے مطابق، ٹینڈر کی شرائط کا مقررہ طریق? کار کے تحت جائزہ لیا گیا اور بولی دہندگان کے اعتراضات پر بھی غور کیا گیا۔ خریداری کے پورے عمل کو شفافیت، منصفانہ طرزِ عمل اور متعلقہ ضوابط کے مطابق انجام دیا گیا ہے۔کیٹرنگ ٹینڈر سے متعلق معاملے کے ہائی کورٹ میں زیرِ غور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر شانتا لا کوجالگی نے کہا کہ ٹینڈر کے عمل میں کسی بھی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے الزامات کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، اخراجات پر قابو پانے، بقایاجات کی ادائیگی اور ٹینڈر نظام میں اصلاحات کے ذریعے برمس کی مالی حالت مستحکم بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ان اقدامات کے مثبت نتائج آئندہ دنوں میں مریضوں کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ڈاکٹر شانتا لا کوجالگی نے مزید بتایا کہ برمس میں زیرِ علاج مریضوں کی بہتر نگہداشت کے مقصد سے ایک بینک کے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) فنڈ کے تحت پہلی مرتبہ 250 بیڈ اور 4,200 بیڈ شیٹس حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔ بینک کے سربراہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ سامان جلد ہی اسپتال کو فراہم کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیڈ اور بیڈ شیٹس کی فراہمی سے برمس کے مالی اخراجات میں مزید کمی آئے گی اور مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔