Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

بیدر میں شارٹ سرکٹ سے 15 ایکڑ گنے کی فصل جل کر خاکستر، کسان کو لاکھوں کے نقصان کا اندیشہ

بیدر، 26 اکتوبر: ضلع بیدر کے ہمناآباد تعلقہ کے اوتاگی گاؤں میں برقی شارٹ سرکٹ کے باعث ایک کسان کی تقریباً 15 ایکڑ اراضی پر کھڑی گنے کی فصل جل کر مکمل طور پر خاکستر ہوگئی۔ اس حادثے میں کسان کو لاکھوں روپے مالیت کی فصل سے محروم ہونا پڑا ہے۔ یہ واقعہ 25 اکتوبر کو پیش آیا، جس نے فصل کی کٹائی کے منتظر کسان کے لیے شدید مالی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق، متاثرہ کھیت گاؤں کے کسان گووند بیراپا کی ملکیت ہے۔ کھیت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے وسیع رقبے پر پھیلی گنے کی فصل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خشک پتوں اور گنے کے پودوں کے باعث آگ تیزی سے پھیلی، جس کے نتیجے میں تقریباً 15 ایکڑ پر کھڑی فصل جل کر راکھ ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ برقی شارٹ سرکٹ بتائی گئی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر فائر بریگیڈ کے عملے کو طلب کیا گیا، لیکن آگ تیزی سے پھیلنے کے باعث عملے کے جائے وقوع پر پہنچنے تک گنے کی فصل بڑی حد تک جل چکی تھی۔ اس طرح کسان کی طویل محنت اور فصل کی تیاری پر صرف کی گئی رقم ضائع ہوگئی۔ گنے کی کاشت میں بیج، کھاد، آب پاشی، مزدوری اور دیگر اخراجات شامل ہوتے ہیں، اس لیے تیار فصل کا اس طرح تباہ ہوجانا کسان کے لیے بڑا مالی دھچکا ہے۔حادثے کی اطلاع ملنے پر ہمناآباد کے رکن اسمبلی ڈاکٹر سِدّو پاٹل متاثرہ کھیت پہنچے اور نقصان کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے فون پر رابطہ کرکے متاثرہ کسان کو معاوضہ دلانے کے لیے ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے جیسکام (GESCOM) کے متعلقہ عہدیداروں سے بھی رابطہ کرکے لٹکتی ہوئی برقی تاروں کی مرمت اور ضروری اقدامات کرنے پر زور دیا، تاکہ اس طرح کے حادثات دوبارہ پیش نہ آئیں۔رکن اسمبلی نے گنے کی جو فصل جزوی طور پر محفوظ رہ گئی تھی، اسے جلد کاٹ کر شوگر فیکٹری تک پہنچانے کے لیے بھی شوگر فیکٹری کے ذمہ داروں سے ضروری تعاون کرنے کو کہا، تاکہ باقی ماندہ فصل کو مزید نقصان سے بچایا جاسکے۔اس واقعے نے کھیتوں کے قریب سے گزرنے والی برقی تاروں کی دیکھ بھال اور بروقت مرمت کی اہمیت کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کیا ہے۔ دیہی علاقوں میں بجلی کی تاروں کے ڈھیلے پڑنے، ایک دوسرے سے ٹکرانے یا برقی نظام میں خرابی کے باعث کھڑی فصلوں کو آگ لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ایسے حادثات نہ صرف کسانوں کی سال بھر کی محنت کو تباہ کرتے ہیں بلکہ ان کی آمدنی اور آئندہ زرعی سرگرمیوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
متاثرہ کسان کے اصل مالی نقصان کا تعین متعلقہ محکموں کے معائنے اور فصل کی جانچ کے بعد ہی ہوسکے گا۔ فی الحال معاوضے کی کسی مخصوص رقم یا اس کی ادائیگی کے بارے میں باضابطہ اعلان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ کسان کو راحت پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام نقصان کا جائزہ لے کر ضابطوں کے مطابق کارروائی کریں اور برقی تاروں کی حالت کی جانچ کرکے ضروری مرمت کو یقینی بنائیں۔