بنگلورو، 25 اکتوبر 2026: کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے وجے دشمی جلوسوں کے معاملے میں واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کو بھی ملک کے دیگر اداروں اور تنظیموں کی طرح قانون اور آئینی ضابطوں کی پابندی کرنی ہوگی۔ ان کے مطابق، پولیس کو کسی جلوس کے انعقاد کی محض اطلاع دے دینا یا انتظامات کرنے کی درخواست کرنا باضابطہ اجازت حاصل کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ جلوس نکالنے سے قبل مقررہ طریقۂ کار کے تحت درخواست دینا اور متعلقہ حکام سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔
پریانک کھرگے نے یہ موقف 20 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام کے ذریعے پیش کیا، جس کے بعد کرناٹک میں کانگریس حکومت اور آر ایس ایس و بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ تیز ہوگئی۔ وزیر داخلہ نے آر ایس ایس کے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ متعلقہ پولیس حکام کو صرف اطلاع دینے کے بجائے مقررہ درخواست داخل کریں، ضروری تفصیلات فراہم کریں اور مجاز حکام کی منظوری کا انتظار کریں۔
وزیر داخلہ کا یہ بیان بنگلورو کے علاقوں لَگّیرے اور کمالانگر میں 25 اکتوبر کو مجوزہ وجے دشمی روٹ مارچ کے سلسلے میں سامنے آیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، آر ایس ایس کی مقامی اکائیوں نے پولیس کو جلوس کے راستوں، اوقات اور دیگر انتظامات کے متعلق تحریری مراسلات روانہ کیے تھے۔ کھرگے نے ان مراسلات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس کو محض اطلاع دینا باقاعدہ اجازت کی درخواست دینے کے برابر سمجھا جاسکتا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ پولیس محکمہ آر ایس ایس کے اشاروں پر کام کرنے کا پابند نہیں ہے۔ عوامی سڑکوں پر بڑے جلوسوں کے انعقاد کے لیے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی، ٹریفک کی تنظیم، امن و امان کی حفاظت اور دیگر انتظامی امور کی پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے۔ ان انتظامات پر سرکاری وسائل اور افرادی قوت صرف ہوتی ہے، اس لیے متعلقہ تنظیموں کو مقررہ ضابطوں کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔
پریانک کھرگے نے آر ایس ایس کی سالانہ رپورٹ 2025-26 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں کرناٹک کے اندر 562 روٹ مارچ اور ان میں 2,21,963 وردی پوش شرکاء کی شرکت کا ذکر ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق، اگر اتنی بڑی تعداد میں افراد ایک ہی دن مختلف مقامات پر جلوس نکالیں تو پولیس کو سکیورٹی، ٹریفک اور دیگر انتظامات کے لیے مناسب وقت درکار ہوتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں یہ وضاحت بھی کی کہ حکومت کا مقصد درخواستوں کو بلاوجہ مسترد کرنا نہیں ہے۔ ان کے مطابق، اگر درخواست مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہو اور مجاز حکام کو پیش کردہ تجویز مناسب معلوم ہو تو اجازت دی جائے گی۔ اگر مجوزہ راستے کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہو تو مقامی حکام اور منتظمین باہمی مشاورت سے متبادل یا مختصر راستے پر غور کرسکتے ہیں۔
وزیر داخلہ کے اس مؤقف کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مذہبی، ثقافتی یا سماجی شناخت کسی بھی تنظیم کو قانون سے بالاتر نہیں بناتی۔ عوامی مقامات پر اجتماعات اور جلوسوں کے انعقاد میں امن و امان، ٹریفک اور شہریوں کی سہولت کا خیال رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، جبکہ منتظمین پر بھی لازم ہے کہ وہ متعلقہ قواعد کی پابندی کریں۔
تاہم، اس معاملے نے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کرلی ہے۔ بی جے پی کے رہنما اور کرناٹک کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سی این اشوتھ نارائن نے 25 اکتوبر کو بنگلورو میں آر ایس ایس کے ایک جلوس کے موقع پر پریانک کھرگے کے بیان پر تنقید کی۔ دی نیوز مِل کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے وزیر داخلہ کے مؤقف کو تنظیم کو نشانہ بنانے والا قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ آیا یہ کھرگے کی ذاتی رائے ہے یا کانگریس حکومت کا باضابطہ موقف۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے تمام طبقات کے مذہبی عقائد اور نظریات کا احترام کرنے کی اپیل بھی کی۔
دوسری جانب، پریانک کھرگے کے بیان میں آر ایس ایس کے جلوسوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا، بلکہ باقاعدہ اجازت لینے اور انتظامی ضابطوں کی پابندی پر زور دیا گیا ہے۔ اس لیے موجودہ تنازع کو سمجھنے کے لیے اجازت کے قانونی طریقۂ کار اور سیاسی جماعتوں کے الزامات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
کرناٹک میں پیدا ہونے والی یہ بحث ایک اہم سوال سامنے لاتی ہے: کیا عوامی سڑکوں پر بڑے اجتماعات منعقد کرنے والی تمام تنظیموں کے لیے یکساں ضابطے نافذ ہوں گے، اور کیا انتظامیہ ان ضابطوں پر بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنا سکے گی؟ جمہوری نظام میں مذہبی و ثقافتی آزادی کے تحفظ کے ساتھ شہریوں کے حقوق، امن و امان اور قانون کی یکساں عمل داری بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
بہ شکریہ دی پرنٹ — پی ٹی آئی
