بنگلورو، 29 اکتوبر: کرناٹک حکومت نے ریاست میں اقلیتی طبقے کی تعلیمی ترقی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے تشکیل دی گئی ’’کرناٹک مائنارٹی ایجوکیشن وژن گروپ‘‘ میں چار نئے ارکان کو شامل کیا ہے۔ 23 ستمبر 2026 کو جاری کردہ اصل اعلامیے کے بعد 8 اکتوبر 2026 کو محکمۂ اقلیتی بہبود، حج و اوقاف نے ترمیمی حکم نامہ جاری کیا، جس کے تحت بھارتی بجیگڈ، ڈاکٹر سید مصطفیٰ الحسینی، رفیع بھنڈاری اور سید ہارون کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح اصل فہرست اور ترمیمی حکم نامے کو ملا کر کمیٹی میں مجموعی طور پر 20 نام سامنے آتے ہیں، جن میں صدر اور رکن سکریٹری بھی شامل ہیں۔راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ منصور علی خان اس کمیٹی کے صدر ہیں۔ کمیٹی کا مقصد ریاست میں اقلیتی طلبہ کی تعلیمی صورتِ حال کا جائزہ لینا، تعلیم تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا اور تعلیمی معیار، اعلیٰ تعلیم، ہنرمندی اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لیے حکومت کو تجاویز پیش کرنا ہے۔کرناٹک حکومت کے 23 ستمبر کے اعلامیے کے مطابق کمیٹی میں انتظامی افسران، ماہرینِ تعلیم، تعلیمی اداروں کے سربراہان، یونیورسٹی اساتذہ اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 8 اکتوبر کے ترمیمی حکم نامے کے ذریعے مزید چار افراد کو شامل کرکے اس کی نمائندگی وسیع کی گئی۔کمیٹی کے صدر منصور علی خان بنگلورو سینٹرل کی نمائندگی کرنے والے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ہیں۔ دیگر اراکین میں وزیر اعلیٰ کے مالیاتی مشیر ایل۔ کے۔ عتیق، بنگلورو میٹرو ریل کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر پی۔ سی۔ جعفر اور منگلورو کے مینگلور ایجوکیشن اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ سے وابستہ ایم ای آئی ایف کے صدر عمر ٹی کے شامل ہیں۔شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر، بنگلورو کے ماہرِ تعلیم ڈاکٹر (فادر) فرانسس اور ڈی اے پی ایس گروپ آف اسکولز کے چیئرمین خالد بیگ ندوی بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ ریاستی تعلیمی تحقیق و تربیت کے ادارے (DSERT) کی سابق ڈائریکٹر بیلا شیٹی، میسورو کے گورنمنٹ کالج آف ٹیچر ایجوکیشن کی ریڈر رخسانہ نازنین اور عظیم پریم جی فاؤنڈیشن سے وابستہ رودریش کو بھی رکن مقرر کیا گیا ہے۔اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی شعبے کی نمائندگی کرتے ہوئے کرناٹک یونیورسٹی، دھارواڑ کے پروفیسر ڈاکٹر شوکت عظیم کمیٹی میں شامل ہیں۔ لیڈ گروپ کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیف کیپیبلٹی آفیسر سری نواسن تھمارائن، فالکن گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے عبدالسبحان، ماہرِ تعلیم عائشہ فرزانہ یو۔ ٹی۔ اور خصوصی تعلیم کی ماہر ڈاکٹر رخسانہ حسن بھی اصل فہرست میں شامل ہیں۔ محکمۂ اقلیتی بہبود کے ڈائریکٹر کو کمیٹی کا رکن سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔8 اکتوبر کے ترمیمی حکم نامے میں شامل چار نئے ارکان میں بھارتی بجیگڈ، آر بی ایل بینک، بنگلورو کی سینئر وائس پریزیڈنٹ ہیں۔ ڈاکٹر سید مصطفیٰ الحسینی خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی کے نائب صدر اور خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی، کلبرگی کے کیمپس ڈائریکٹر ہیں۔ رفیع بھنڈاری سالار سے وابستہ سینئر صحافی ہیں اور صحافت، تعلیم اور سماجی خدمات کے شعبوں میں سرگرم رہے ہیں۔ حکم نامے میں انہیں وجے پور سے تعلق رکھنے والے راجیہ اتسوا ایوارڈ یافتہ کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ چوتھے نئے رکن سید ہارون چنتامنی تعلقہ، ضلع چکّبلاپور سے تعلق رکھنے والے صنعت کار ہیں۔اس طرح کمیٹی میں سرکاری انتظامیہ، نجی تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں، اساتذہ کی تربیت، خصوصی تعلیم، صحافت، صنعت اور بینکنگ کے شعبوں سے وابستہ افراد کی نمائندگی سامنے آتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس کمیٹی کے ذریعے اقلیتی تعلیم کے مسائل کا جائزہ لینے اور آئندہ تعلیمی پالیسیوں کے لیے تجاویز مرتب کرنے کی توقع ہے۔ میں اقلیتی طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی، اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی، اردو میڈیم اسکولوں میں تعلیمی سہولتوں کی بہتری، طالبات کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول، اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور پیشہ ورانہ تربیت جیسے مسائل خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ کمیٹی ان موضوعات کا جائزہ لے کر حکومت کو عملی تجاویز پیش کرسکتی ہے۔ تاہم، اس کی سفارشات پر عمل درآمد، ان کے لیے مالی وسائل اور مجوزہ اصلاحات کی مدت کے بارے میں حتمی تفصیلات متعلقہ سرکاری فیصلوں سے ہی واضح ہوں گی۔
کمیٹی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس کے اراکین ریاست کے مختلف اضلاع میں اقلیتی طلبہ، والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے مسائل کو کس حد تک براہِ راست سمجھتے ہیں اور ان کے حل کے لیے قابلِ عمل سفارشات پیش کرتے ہیں۔ اگر ان تجاویز کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو اس سے اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مواقع میں بہتری اور اعلیٰ تعلیم و روزگار تک ان کی رسائی میں مدد مل سکتی ہے۔
ماخذ: حکومتِ کرناٹک، محکمۂ اقلیتی بہبود، حج و اوقاف
