اتر پردیش کے ضلع سلطان پور میں پیر کی صبح لکھنؤ۔سلطان پور شاہراہ پر کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے قافلے کے پیچھے چلنے والی چار کاریں اور ایک ایمبولینس آپس میں ٹکرا گئیں۔ یہ حادثہ ضلع سلطان پور کے ہلیاپور علاقے میں پیش آیا۔ حکام کے مطابق، حادثے میں کسی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے اور راہل گاندھی بھی پوری طرح محفوظ رہے۔خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے ایک افسر نے بتایا کہ یہ حادثہ صبح تقریباً 10 بج کر 15 منٹ پر اس وقت پیش آیا، جب قافلے کے آگے چل رہی ایک نجی گاڑی نے نامعلوم وجہ سے اچانک بریک لگادی۔ یہ گاڑی مقامی کانگریس قائدین کی تھی۔ اچانک بریک لگنے کے نتیجے میں پیچھے آنے والی گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ حادثے میں شامل گاڑیاں راہل گاندھی کے اصل قافلے کا حصہ نہیں تھیں، بلکہ ان کے قافلے کے پیچھے چل رہی تھیں۔افسر کے مطابق، حادثے کے بعد قافلے نے جلد ہی دوبارہ اپنا سفر شروع کردیا اور سلطان پور کی جانب روانہ ہوگیا۔ راہل گاندھی کے ساتھ حفاظتی انتظامات کے تحت پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔اطلاعات کے مطابق، راہل گاندھی کو ہتکِ عزت کے ایک مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں پیر کی صبح تقریباً 11 بج کر 15 منٹ پر سلطان پور کی عدالت پہنچنا تھا۔ یہ مقدمہ 2018 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات سے قبل بنگلورو میں منعقدہ ایک انتخابی جلسے کے دوران راہل گاندھی کی جانب سے اس وقت کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر امیت شاہ کے خلاف مبینہ طور پر قابلِ اعتراض تبصرے کرنے سے متعلق ہے۔حادثے کے باوجود راہل گاندھی کے سفر میں زیادہ دیر تک رکاوٹ نہیں آئی اور ان کا قافلہ سلطان پور کی جانب روانہ ہوگیا۔
بہ شکریہ پی ٹی آئی
