نئی دہلی: بدلتی ہوئی دنیا میں صرف تعلیمی ڈگری حاصل کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ عملی مہارت، ڈیجیٹل تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت بھی روزگار کے بہتر مواقع حاصل کرنے کے لیے اہم ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق طلبہ اگر تعلیم کے دوران ہی اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق ہنر سیکھیں تو انہیں مستقبل میں ملازمت یا اپنا کاروبار شروع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ہنرمندی اور پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ
حکومتِ ہند کی جانب سے اسکل انڈیا مشن اور پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (PMKVY) جیسے پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ ان پروگراموں کا مقصد نوجوانوں کو صنعتوں کی ضروریات کے مطابق مہارتیں سکھانا اور ان کی ملازمت حاصل کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق 8 مارچ 2026 تک PMKVY کے تحت 1.64 کروڑ امیدواروں کو مختلف شعبوں میں تربیت یا رہنمائی فراہم کی جا چکی تھی۔ <Cite refs={["turn202949search2”]} />
کن مہارتوں کی مانگ بڑھ رہی ہے؟
موجودہ دور میں کمپیوٹر کی بنیادی معلومات، ڈیٹا مینجمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر سیکیورٹی اور مؤثر ابلاغ جیسی مہارتیں نوجوانوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم، ہر شعبے میں کامیابی کے لیے متعلقہ تعلیم، مسلسل مشق اور عملی تجربہ بھی ضروری ہے۔
طلبہ روزگار کی تیاری کیسے کریں؟
تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان چند اہم اقدامات کے ذریعے اپنے مستقبل کی بہتر تیاری کر سکتے ہیں:
- اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق کیریئر کا انتخاب کریں۔
- معتبر اداروں سے مختصر مدتی یا پیشہ ورانہ تربیتی کورسز کریں۔
- کمپیوٹر اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بنیادی مہارتیں حاصل کریں۔
- انٹرن شپ، اپرنٹس شپ اور عملی منصوبوں کے ذریعے تجربہ حاصل کریں۔
- اپنا ریزیومے تیار کریں اور انٹرویو کی مشق کریں۔
- سرکاری ملازمتوں، اسکالرشپس اور تربیتی پروگراموں کی معلومات صرف مستند ذرائع سے حاصل کریں۔
نوجوانوں کے لیے اہم پیغام
تعلیم، ہنر اور عملی تجربہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ نوجوان اگر اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مستقل محنت کریں، نئی ٹیکنالوجی سیکھیں اور روزگار کی ضروریات کو سمجھیں تو ان کے لیے ملازمت اور خود روزگاری کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔
تعلیم کا اصل مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ علم اور مہارت کو عملی زندگی میں استعمال کرنا بھی ہے۔
فالکن بی پی این نیوز — تعلیم، روزگار اور کامیاب مستقبل کی جانب ایک قدم۔
