بنگلورو۔ 18 / اکتوبر۔ کینسر جیسے مہلک مرض کے علاج کو مریضوں کے لیے مزید قابلِ برداشت بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت نے کینسر کی 137 منتخب ادویات پر تجارتی منافع کی حد 30 فیصد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بعض ادویات کی قیمتوں میں 70 فیصد تک کمی متوقع ہے۔ نئی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتوں کا اطلاق 9 نومبر 2026 سے ہوگا۔ کرناٹک کے وزیر صحت یو ٹی قادر نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کینسر کے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ پر علاج کے بھاری مالی بوجھ کو کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔یو ٹی قادر نے کہا کہ قومی ادارۂ قیمت بندیِ ادویات (NPPA) کا یہ فیصلہ کرناٹک سمیت ملک بھر کے کینسر مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کینسر جیسی سنگین بیماریوں کا علاج کروانا مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ مہنگی ادویات کی وجہ سے کسی بھی مریض کو اپنا علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کئی خاندان علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی جائیداد فروخت کرنے یا بھاری قرض لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ادویات کی قیمتوں میں کمی سے مریضوں کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ادویات کی قیمتوں میں شفافیت اور معیاری طبی سہولتوں تک عام لوگوں کی رسائی یقینی بنانے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے۔مرکزی وزارتِ کیمیکلز و کھاد کے تحت کام کرنے والے قومی ادارۂ قیمت بندیِ ادویات نے 137 منتخب غیر طے شدہ زمرے کی انسدادِ سرطان ادویات کے تجارتی منافع کو معقول بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ادویات کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتوں میں نظرثانی کی جائے گی۔ تاہم، ہر دوا کی قیمت میں کمی کی شرح اس کی موجودہ قیمت اور متعلقہ تجارتی ڈھانچے پر منحصر ہوگی؛ اس لیے تمام ادویات کی قیمتوں میں 70 فیصد کمی نہیں ہوگی۔
اس فہرست میں ایسی امیونوتھراپی ادویات بھی شامل ہیں جو کینسر کی 20 سے زائد اقسام کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والی ڈینوسومیب (Denosumab)، کینسر کے مریضوں میں نیوٹروپینیا سے بچاؤ کے لیے دی جانے والی پیگ فلگراسٹم (Pegfilgrastim) اور بڑی آنت، بیضہ دانی اور رحم کے منہ کے کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی بیواسیزومیب (Bevacizumab) بھی اس دائرے میں شامل ہیں۔ پیمبرولیزومیب (Pembrolizumab)، ڈوروالومیب (Durvalumab) اور اوسیمیرٹینیب (Osimertinib) جیسی معروف ادویات کی قیمتوں پر بھی اس فیصلے کا اطلاق ہوگا۔قومی ادارۂ قیمت بندیِ ادویات نے ادویات کے تجارتی منافع کی حد ادویات (قیمتوں کے کنٹرول) کے حکم، 2013 کے تحت مقرر کی ہے۔ یہ اقدام ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے تحت قائم ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات کے بعد کیا گیا ہے۔
17 اکتوبر 2026 کو جاری سرکاری گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق، دوا ساز کمپنیوں کو نظرثانی شدہ قیمتوں کی اطلاع سات دن کے اندر قومی ادارۂ قیمت بندیِ ادویات کو دینی ہوگی۔ اسپتالوں اور دوا فروشوں کے لیے 9 نومبر سے نئی مقررہ قیمتوں پر ادویات فروخت کرنا اور قیمتوں کی تازہ فہرست نمایاں مقام پر آویزاں کرنا ضروری ہوگا۔ صارفین ادویات کی قیمتوں کی جانچ کے لیے ’فارما صحیح دام‘ (Pharma Sahi Daam) ایپ اور ادارے کی سرکاری ویب سائٹ سے بھی استفادہ کرسکیں گے۔
حکام نے دوا ساز کمپنیوں کو ادویات کی مناسب فراہمی برقرار رکھنے کی ہدایت بھی دی ہے تاکہ قیمتوں میں کمی کے بعد کسی قسم کی قلت پیدا نہ ہو۔ وزیر صحت یو ٹی قادر نے اس امید کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے کینسر کے مریضوں کو مالی راحت ملے گی اور مہنگے علاج تک رسائی نسبتاً آسان ہوگی۔ انہوں نے ادویات کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی، شفافیت اور سستی طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
