اسلام میں صحافت محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں، بلکہ حق گوئی، امانت داری، عدل اور معاشرتی اصلاح کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ سچی خبر کو عوام تک پہنچانا، ظلم و ناانصافی کو بے نقاب کرنا اور لوگوں کو حقائق سے باخبر رکھنا اسی وقت باعثِ خیر ہے جب صحافت جھوٹ، افواہوں، تعصب اور کردارکشی سے پاک ہو۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قلم کی حرمت اور خبر کی صداقت صحافی کے بنیادی اوصاف ہیں۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”اے ایمان والو! اگرکوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔“ (سورۃ الحجرات، 49:6)۔ یہ آیت صحافت کے لیے ایک بنیادی اصول متعین کرتی ہے کہ کسی خبر کو شائع یا نشر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضروری ہے، کیونکہ غیر مصدقہ خبر کسی بے گناہ کی عزت، معاشرتی امن اور اجتماعی اتحاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ۔“ (سورۃ البقرۃ، 2:42)۔ یہ حکم صحافی کو سچائی بیان کرنے، حقائق کو مسخ نہ کرنے اور ذاتی مفادات یا دباؤ کے تحت حقیقت نہ چھپانے کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح سورۃ النساء (4:135) میں اللہ تعالیٰ نے عدل پر مضبوطی سے قائم رہنے اور حق کی گواہی دینے کا حکم دیا ہے، خواہ وہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔سول اللہ ﷺ نے خبر اور بیان کی سچائی کو ایمان و کرد وابستہ کرتے ہوئے فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6018؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 47)۔ یہ حدیث صحافی کو یاد دلاتی ہے کہ ہر شائع ہونے والی بات مفید، ذمہ دارانہ اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ایک دوسری حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کرتا پھرے۔“ (صحیح مسلم، مقدمہ، حدیث نمبر 5)۔ اس فرمانِ نبوی ﷺ میں غیر مصدقہ خبروں کی اشاعت سے واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے۔ صحافت میں کسی خبر کی سنسنی خیزی نہیں، بلکہ اس کی صداقت اصل معیار ہونی چاہیے۔آج کے دور میں، جب سوشل میڈیا کے ذریعے چند لمحوں میں خبر لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہے، اسلامی صحافت کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک دیانت دار صحافی وہ ہے جو اقتدار کے سامنے حق کہنے کا حوصلہ رکھے، مظلوم کی آواز بنے، خبر میں امانت و انصاف کا دامن نہ چھوڑے اور کسی کی عزت کو اپنی شہرت کی قیمت نہ بنائے۔ اسلامی صحافت کا اصل مقصد محض خبر دینا نہیں، بلکہ سچ کو زندہ رکھنا، باطل کو بے نقاب کرنا اور معاشرے کو حق و انصاف کی راہ دکھانا ہے۔ یہی صحافت قلم کو عبادت، خبر کو امانت اور صحافی کو معاشرے کا ذمہ دار نگہبان بناتی ہے۔
