Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

بھارت میں مہنگائی میں اضافہ، ستمبر میں افراط زر کی شرح 5.54 فیصد تک پہنچ گئی

ئی دہلی: بھارت میں ستمبر 2026 کے دوران خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 5.54 فیصد ہو گئی، جس کے بعد عام شہریوں کے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگست میں یہ شرح 4.83 فیصد تھی۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی بڑھنے کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ <Cite refs={["turn397594search2″,”turn397594search1”]} />

کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق ستمبر میں غذائی مہنگائی کی شرح بڑھ کر 7.74 فیصد ہو گئی، جبکہ اگست میں یہ 5.97 فیصد تھی۔ پیاز، ادرک اور لہسن جیسی ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو اخراجات پر اثر ڈالا۔

ماہرین کے مطابق اگر ضروری اشیا کی قیمتیں مسلسل بلند رہتی ہیں تو متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ماہانہ بجٹ سنبھالنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

ریزرو بینک کے سامنے چیلنج

مہنگائی میں اضافے کے باعث ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے لیے قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم رکھنا اہم ہو گیا ہے۔ مسلسل مہنگائی کی صورت میں شرحِ سود سے متعلق مزید فیصلوں پر بھی توجہ دی جا سکتی ہے، تاہم آئندہ اقدامات کا انحصار معاشی اعداد و شمار اور مرکزی بینک کے جائزے پر ہوگا۔ <Cite refs={["turn397594search2″,”turn397594news9”]} />

عام شہری کیا کریں؟

ماہرین کی عمومی مالی رہنمائی کے مطابق خاندان ماہانہ بجٹ تیار کرکے، ضروری اور غیر ضروری اخراجات میں فرق کرکے اور خریداری سے پہلے قیمتوں کا موازنہ کرکے اپنے اخراجات بہتر انداز میں سنبھال سکتے ہیں۔

مہنگائی کا اثر صرف اشیائے خورونوش تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ گھریلو بچت، کاروباری لاگت اور صارفین کی قوتِ خرید پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

فالکن بی پی این نیوز: معیشت، مہنگائی، کاروبار اور روزگار سے متعلق تازہ خبروں کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔

ماخذ: رائٹرز اور دی اکنامک ٹائمز کی اکتوبر 2026 کی اقتصادی رپورٹس