Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

بہار میں پولیس حراست کے دوران مسلم نوجوان کی موت، چھ پولیس اہلکار معطل؛ اہل خانہ کا مارپیٹ کا الزام

پٹنہ ۔ 19 اکتوبر ۔ بہار کے ضلع مغربی چمپارن میں 25 سالہ مسلم نوجوان دلشاد انصاری کی پولیس حراست کے دوران موت کے معاملے نے سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ نوجوان کے اہلِ خانہ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس حراست میں ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی، جس کے نتیجے میں ان کی موت ہوئی، جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ دورانِ سفر چلتی گاڑی سے کودنے کے باعث شدید زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد دو سب انسپکٹروں سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے اور خاندان نے موت کی غیر جانب دارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق، دلشاد انصاری بیتیا کے بنوچھپر تھانہ علاقے کے تحت اوریا گاؤں کے بڑھئی ٹولہ کے رہنے والے تھے اور ایک فنانس کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ 12 اکتوبر کی رات تقریباً دو بجے پولیس کی ایک ٹیم دو گاڑیوں میں ان کے گھر پہنچی اور انہیں پوچھ گچھ کے لیے اپنے ساتھ لے گئی۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے یقین دلایا تھا کہ پوچھ گچھ کے بعد انہیں صبح تک چھوڑ دیا جائے گا۔دلشاد کی اہلیہ نگما خاتون کے مطابق، اگلی صبح بنوچھپر تھانے سے فون آیا اور خاندان کو بیتیا کے گورنمنٹ میڈیکل کالج و اسپتال پہنچنے کے لیے کہا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ دلشاد کی طبیعت خراب ہوگئی ہے، لیکن اسپتال پہنچنے پر اہلِ خانہ کو ان کی موت کی اطلاع ملی۔ اس اطلاع نے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کردیابیتیا پولیس کے بیان کے مطابق، دلشاد انصاری کو منشیات سے متعلق ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں سہودرا تھانے لے جایا جارہا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دورانِ سفر وہ چلتی گاڑی سے کود گئے، جس کے نتیجے میں انہیں سر پر شدید چوٹ لگی۔ پولیس کے مطابق، انہیں پہلے نرکٹیا گنج کے سب ڈویژنل اسپتال لے جایا گیا، جہاں سے مزید علاج کے لیے بیتیا کے میڈیکل کالج و اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔دلشاد انصاری کے خلاف نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹنسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہونے کی اطلاع ہے۔ تاہم، مقدمے کا اندراج بذاتِ خود ان کی موت کے حالات کی وضاحت نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے حراست کے دوران پیش آنے والے واقعات کی حقیقت ثابت ہوتی ہے۔دلشاد کے والد اکبر انصاری نے پولیس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کے سر پر پولیس اہلکاروں نے شدید ضرب لگائی تھی۔ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ گرفتاری کے بعد دلشاد کے ساتھ کیا پیش آیا اور ان کی موت کن حالات میں ہوئی۔ اہلِ خانہ کا سوال ہے کہ اگر نوجوان کو پوچھ گچھ کے لیے لے جایا گیا تھا تو چند گھنٹوں بعد اس کی موت کیسے ہوگئی؟ خاندان نے پولیس کے بیان پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے اعلیٰ سطح کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، مارپیٹ کے الزام اور پولیس کے بیان کی آزادانہ تصدیق تحقیقات اور دستیاب طبی شواہد کی بنیاد پر ہونا باقی ہے۔واقعے کے بعد بیتیا پولیس کے سپرنٹنڈنٹ کمار گوتم کے حکم پر چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا۔ ان میں دو سب انسپکٹر روی شنکر کمار اور ارون کمار، جبکہ چار کانسٹیبل سوداگر کمار یادو، راج کمار رشی، کندن کمار اور سمن کمار شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، تمام چھ اہلکار سہودرا تھانے سے وابستہ تھے۔ ان اہلکاروں کی معطلی ایک ابتدائی انتظامی اقدام ہے، تاہم اس سے کسی فرد کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔ موت کی اصل وجہ اور ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔سابق رکنِ راجیہ سبھا اور آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ کے سربراہ علی انور نے بھی واقعے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بہار کے وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے قومی انسانی حقوق کمیشن سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کو مالی معاوضہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ بعض سماجی کارکنوں نے بھی پولیس کے اس دعوے پر سوال اٹھائے ہیں کہ دلشاد چلتی گاڑی سے کودے تھے اور مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی شفاف جانچ کی جائے۔دلشاد انصاری اپنے پیچھے اہلیہ اور ایک کم سن بیٹی چھوڑ گئے ہیں۔ اس واقعے نے پولیس حراست میں شہریوں کے تحفظ، انسانی حقوق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جواب دہی سے متعلق سوالات کو پھر نمایاں کردیا ہے۔ خاندان کے لیے سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ موت کی وجوہات کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ، طبی شواہد، دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے بیانات کی بنیاد پر کیا جائے۔ اگر کسی اہلکار کی جانب سے تشدد یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا ثبوت ملتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ پولیس حراست میں کسی شخص کی موت ایک نہایت سنگین معاملہ ہے؛ اس میں شفاف تحقیقات، حقائق کی مکمل اشاعت اور ذمہ داری کا منصفانہ تعین ہی متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔