Skip to main content

Falcon BPN News

📅
تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

گوالیار میں مندر جانے والے افراد پر بے قابو ٹرک چڑھ گیا، 15 ہلاک، 29 زخمی

گوالیار، 19 اکتوبر: مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں شیتلا ماتا مندر کی جانب جانے والے افراد پر دھان سے لدا ایک بے قابو ٹرک چڑھ جانے سے کم از کم 15 افراد کی موت ہوگئی، جبکہ 29 دیگر زخمی ہوگئے۔ یہ دل دہلا دینے والا حادثہ 18 اکتوبر کی علی الصبح ناوراتری کے دوران پیش آیا، جب مندر میں درشن کے لیے بڑی تعداد میں عقیدت مند جمع تھے۔ حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور متاثرہ خاندانوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔پولیس اور انتظامیہ سے موصولہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ چنّور روڈ پر تقریباً ڈیڑھ بجے پیش آیا۔ دھان سے لدا ٹرک چھنور کی سمت سے مندر کی جانب آرہا تھا۔ مندر جانے والے افراد کی بڑی تعداد کی آمدورفت کے پیش نظر اس راستے پر بھاری گاڑیوں کا داخلہ ممنوع تھا اور پولیس بیریکیڈ بھی نصب کیے گئے تھے۔ تاہم، ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹرک بیریکیڈ عبور کرکے ڈھلان پر بے قابو ہوگیا اور سڑک پر موجود افراد اور عارضی دکانوں کو روندتا ہوا مندر کے بیرونی دروازے اور دیوار سے ٹکرا گیا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ دیوار کا ایک حصہ بھی منہدم ہوگیا۔حادثے کے فوراً بعد جائے وقوع پر افراتفری مچ گئی۔ کئی افراد ٹرک اور ملبے کے نیچے پھنس گئے، جبکہ زخمیوں کو نکالنے اور اسپتال پہنچانے کے لیے پولیس، ایمبولینس اور امدادی ٹیموں نے کارروائی شروع کی۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ ابتدائی رپورٹوں میں زخمیوں کی تعداد مختلف بتائی گئی، تاہم ایک رپورٹ کے مطابق 29 افراد زخمی ہوئے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔حادثے کے بعد متاثرین کے اہلِ خانہ نے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اس راستے پر بھاری گاڑیوں کی آمدورفت ممنوع تھی تو ٹرک وہاں تک کیسے پہنچ گیا؟ پولیس بیریکیڈز کی نگرانی اور ممنوعہ راستے پر گاڑیوں کی روک تھام میں ممکنہ کوتاہیوں کی جانچ شروع کردی گئی ہے۔ ان الزامات کی حتمی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گی۔واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو نے تحقیقات کا حکم دیا اور انتظامی سطح پر کارروائی کرتے ہوئے گوالیار کے سٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو عہدے سے ہٹانے اور آٹھ پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دیا۔ حکام کی جانب سے ٹرک کی تکنیکی جانچ بھی شروع کی گئی، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ گاڑی بے قابو ہونے کی وجہ بریکوں کی خرابی تھی یا کوئی اور تکنیکی مسئلہ، نیز ممنوعہ راستے پر اس کے داخل ہونے کے حالات کیا تھے۔حادثے کے سلسلے میں ٹرک کے ڈرائیور دل باغ سنگھ اور مالک ہربریت سنگھ کی گرفتاری کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں کو راجستھان میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ ٹرک پابندی کے باوجود مندر کی جانب جانے والے راستے پر کیسے داخل ہوا اور حادثے کے وقت حفاظتی انتظامات کیوں مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ تاہم، گرفتاری کو جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا اور حتمی ذمہ داری کا تعین قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔حادثے کے بعد ریاستی اور مرکزی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا۔ مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے مہلوکین کے لواحقین کو فی کس چار لاکھ روپے، شدید زخمیوں کو دو لاکھ روپے اور دیگر زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا گیا۔ وزیراعظم قومی راحت فنڈ کے تحت بھی ہر مہلوک کے خاندان کو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا گیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ گوالیار کا یہ المناک حادثہ مذہبی اجتماعات میں عوامی سلامتی کے انتظامات پر کئی سنگین سوالات چھوڑ گیا ہے۔ جب کسی مذہبی مقام پر تہوار کے موقع پر بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہو تو بھاری گاڑیوں کی آمدورفت روکنا، بیریکیڈز کی مؤثر نگرانی کرنا، ہنگامی راستے کھلے رکھنا اور فوری امدادی کارروائی کو یقینی بنانا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب راستہ بھاری گاڑیوں کے لیے ممنوع تھا اور وہاں پولیس کی تعیناتی بھی تھی تو ٹرک لوگوں کے ہجوم تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوا؟ اس سوال کا جواب صرف چند اہلکاروں کی معطلی سے نہیں، بلکہ شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات سے سامنے آنا چاہیے۔ اگر حفاظتی انتظامات میں کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں کسی مذہبی اجتماع کو ایسی غفلت کی قیمت انسانی جانوں سے ادا نہ کرنی پڑے۔