
ممبئی19/ اکتوبرگیٹ وے آف انڈیا بم دھماکہ مقدمہ کی حتمی سماعت دسہرہ کی تعطیلات کے بعد کسی بھی دن سپریم کورٹ آف انڈیا کرسکتی ہے، گذشتہ سماعت پر جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی تین رکنی بینچ نے حتمی سماعت شرو ع کیئے جانے کا حکم دیا تھا۔ اس ضمن میں آج ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ ملزمین کا دفاع کرنے کے لیئے سینئر وکلاء تیار ہیں اور وہ گذشتہ سماعت پر بھی بحث کرنے کے لیئے تیار تھے لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ ملزمہ فہمیدہ کے لیئے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن بحث کریں گی جبکہ ملزم عشرت کے لیئے ایڈوکیٹ کامنی جیسوال بحث کریں گھی جبکہ سینئر وکلاء کی معاونت ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اور معاونین وکلاء کریں گے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ گذشتہ کئی سالوں سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں التواء کی شکار عرضداشتوں پر جلد از جلد سماعت کیئے جانے کی عدالت سے درخواست کی گئی لیکن کسی وجہ سے سماعت نہیں ہوسکی اس دوران اس مقدمہ کا سامنا کررہے دو ملزمین کاانتقال بھی ہوگیا۔انہوں نے مزیدکہا کہ ملزمین سال 2003/ سے جیل میں مقید ہیں اور اس دوران انہیں کبھی ضمانت نہیں ملی۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دسہرہ کی چھٹیوں کے بعد عدالت ملزمین کی عرضداشتوں پر حتمی سماعت کرلے گی کیونکہ عدالت کے حکم پر ہی قیدیوں کی اصلاح کی رپورٹ، قیدیوں کے ذریعہ جیل میں انجام دیئے گئے کام کی رپورٹ، جیل میں قیدیوں کا رویہ اور طرز عمل رپورٹ، نفسیاتی تشخیص کی رپورٹ، سزا میں تخفیف کی تفتیشی رپورٹ و دیگر تفصیلات ناگپور سینٹرل جیل نے پھانسی کی سزا پانے والے فہمیدہ سید اور عشرت انصار ی کی تیار کردی ہے۔ عیاں رہے کہ 2003 / میں ممبئی کے مشہور زویری بازار اور گیٹ وے آف انڈیا نامی علاقوں میں رو نما ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے الزام میں بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے تین ملزمین کی پھانسی کی سزاؤں کی تصدیق کیئے جانے کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں دائر کی گئی اپیل پر سماعت عمل میں آئی۔ نچلی عدالت اور ہائی کورٹ سے پھانسی کی سزا پانے والے تین ملزمین میں سے ایک ملزم حنیف سید کا 11/ فروری 2019 / کو طویل علالت کے بعد ناگپور سینٹرل جیل میں انتقال ہوگیا تھا۔ یہ مقدمہ ملک کی عدلیہ کی تاریخ کا ایسا پہلا مقدمہ ہے جس میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت پھانسی کی سزا میاں بیوی کو دی گئی تھی۔ممبئی کی خصوصی پوٹا عدالت نے فہمیدہ سید اورسید حنیف کو پھانسی کی سزا دی تھی۔استغاثہ کے مطابق فہمیدہ سید اور حنیف سید نے دوسرے مجر م عشرت انصاری کی ٹیکسی میں سفر کر کے گیٹ وے آف انڈیا سمیت دیگر مقامات پر آتش گیر مادے رکھے تھے جو دھماکے کا سبب بنے تھے۔اگست 2003/میں ہوئے ا ن دھماکوں میں 54/ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ244/ سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ بامبے ہائی کورٹ سے 10/ فروری 2012 / کوپھانسی کی سزا کی تصدیق ہونے کے بعد جمعیۃ علما ء قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی گئی جس پر وقفے وقفے سے سماعت ہوتے رہی ہے لیکن عدالتی کارڈ تیار نہیں ہونے کی وجہ سے حتمی سماعت شروع نہیں ہوسکی، اب جبکہ ریکارڈ تیار ہوچکا ہے اور عدالت نے جیل سے رپورٹ آچکی ہے، حتمی سماعت ہونے کے قوی امکانات ہیں۔اس معاملے میں سپریم کورٹ آف انڈیا میں ابتک 45/ سماعتیں ہوچکی ہیں۔
