بنگلورو۔ 19 اکتوبر ۔کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور سماجی کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا، جس کے بعد شہری آزادیوں، پُرامن احتجاج کے حق اور انتخابی فہرستوں کی شفافیت پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ 17 اکتوبر کو ٹاؤن ہال کے قریب احتجاج کے دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کے ارکان اور دیگر سماجی کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر نظرثانی کا مطالبہ کررہے تھے۔ مختلف اخبارات نے زیرِ حراست افراد کی تعداد تقریباً 50 سے 80 تک بتائی ہے، جبکہ پولیس نے انہیں کچھ وقت بعد رہا کردیا۔پولیس نے ٹاؤن ہال کے قریب احتجاج روکنے کے لیے بھاری نفری تعینات کی اور رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ پولیس کے مطابق، مظاہرے کے منتظمین نے ٹاؤن ہال کے قریب احتجاج کی اجازت طلب کی تھی، لیکن کرناٹک ہائی کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے اجازت دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔ پولیس نے مظاہرین کو فریڈم پارک میں ضروری اجازت حاصل کرکے احتجاج کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس کے باوجود جب مظاہرین ٹاؤن ہال کے قریب جمع ہوئے تو انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس کے مطابق، یہ کارروائی 17 اکتوبر کی شام تقریباً 4:30 سے 5:30 بجے کے درمیان کی گئی۔دوسری جانب، احتجاج کے منتظمین اور سماجی کارکنوں نے پولیس کارروائی پر سخت اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج پُرامن تھا اور اس کا مقصد انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران پیدا ہونے والے خدشات کو اجاگر کرنا تھا۔ بعض کارکنوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے مظاہرین کو زبردستی ہٹایا، جس کے دوران کچھ افراد کو معمولی چوٹیں آئیں اور بعض کے کپڑے پھٹ گئے۔ کارکنوں نے یہ شکایت بھی کی کہ بعض خاتون پولیس اہلکاروں نے شناختی بیج نہیں پہنے تھے۔ یہ الزامات ہیں، جن پر پولیس کی جانب سے الگ سے تصدیق ضروری ہے۔احتجاج کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ مظاہرین نے مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل میں شفافیت ہونی چاہیے اور کسی بھی اہل ووٹر کو محض دستاویزات کی کمی، نام یا پتے میں تبدیلی، نقل مکانی کے اندراج یا انتظامی غلطی کی وجہ سے اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، انتخابی فہرستوں میں ناموں کی جانچ کا عمل اس انداز میں انجام دیا جانا چاہیے کہ حقیقی ووٹروں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔اس تنازعے کے پس منظر میں کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے دوران ناموں کے اخراج سے متعلق خدشات بھی شامل ہیں۔ بعض سماجی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس عمل سے مہاجر مزدوروں، خواتین، مسلمانوں اور دیگر محروم طبقات کے اہل ووٹروں کے نام متاثر ہوسکتے ہیں۔ تاہم، یہ خدشات اور کارکنوں کے دعوے ہیں؛ دستیاب اطلاعات سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ حذف کیے گئے تمام نام غلط طریقے سے نکالے گئے یا صرف کسی مخصوص مذہبی برادری کو نشانہ بنایا گیا۔دوسری طرف، انتخابی حکام نے واضح کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے دستاویزی ثبوت اور تصدیق ضروری ہے۔ حکام کے مطابق، فوت شدہ، دوسری جگہ منتقل ہونے والے، دوہری اندراج رکھنے والے یا نااہل قرار پانے والے ووٹروں کے نام قواعد کے مطابق حذف کیے جاسکتے ہیں، لیکن مناسب دستاویزات اور موقع پر تصدیق کے بغیر فارم 7 کی درخواستوں پر کارروائی نہیں کی جارہی۔ حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ دعوؤں اور اعتراضات کی جانچ کے بعد ہی متعلقہ فہرستوں میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔اس سے قبل 12 اکتوبر کو بھی بنگلورو میں SIR مخالف مظاہرے کے دوران طلبہ، سماجی کارکنوں، بزرگ شہریوں اور وکلا کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد کرناٹک کے وزیرِ داخلہ پریانک کھرگے نے پولیس کارروائی کا جائزہ لینے کی ہدایت دی تھی اور کہا تھا کہ پُرامن احتجاج کے حق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اختلافِ رائے کو امن و امان کے لیے خطرہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا معاملہ اب محض انتخابی فہرستوں کی تکنیکی جانچ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے جمہوری حقوق، انتظامی شفافیت اور شہریوں کے پُرامن احتجاج کے حق سے متعلق وسیع تر بحث کو جنم دیا ہے۔ خصوصاً مسلمانوں سمیت ان طبقات کے لیے یہ معاملہ اہم ہے جنہیں خدشہ ہے کہ دستاویزات یا اندراج سے متعلق غلطیوں کے باعث ان کے اہل ووٹروں کے نام متاثر ہوسکتے ہیں۔انتخابی فہرستوں کی حتمی اشاعت 27 اکتوبر 2026 کو مقرر ہے۔ اس لیے متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ ہر اعتراض کی غیر جانب دارانہ جانچ کریں، ووٹروں کو اپنی دستاویزات پیش کرنے اور غلطیوں کی اصلاح کا مناسب موقع دیں اور کسی بھی اہل شہری کو بلاجواز حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہونے دیں۔ اسی طرح، احتجاج کے دوران پولیس کارروائی سے متعلق شکایات کی شفاف جانچ بھی ضروری ہے۔ جمہوریت میں انتخابی عمل کی ساکھ صرف ووٹنگ کے دن سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی قائم ہوتی ہے کہ ہر اہل شہری کا نام انتخابی فہرست میں درست طور پر موجود ہو اور اسے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پُرامن آواز اٹھانے کا موقع حاصل رہے۔
ماخذ: [دی انڈین ایکسپریس]
